آبی وسائل کی وزارت06-October, 2017 10:30 IST
ملک کے 91بڑے آبی ذخائر کی سطح آب میں اضافہ


 

نئی دہلی،06۔اکتوبر   ۔پانچ اکتوبر 2017 کو ختم ہونے والے ہفتہ کو ملک کے 91 بڑے آبی ذخائر میں  105.851 بی سی ایم پانی موجود تھا ، جو ان آبی ذخائر میں  پانی جمع ہونے کی مجموعی گنجائش  کے 67 فیصد کے بقدر ہے ،جبکہ 28 ستمبر 2017 کو ختم ہونے والے ہفتہ کو ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار اس سے کم یعنی ان کی مجموعی گنجائش کے 66 فیصد کے بقدر تھی۔پانچ اکتوبر 2017  کو ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار  پچھلے سال کی اسی مدت کے 90 فیصد اور گزشتہ دس برس کے اوسط کے 89 فیصد کے بقدر رہی ۔  

          ان 91  بڑے آبی ذخائر میں  157.799 بی سی ایم پانی جمع کیا جاسکتا ہے ، جو ملک میں  پانی جمع کرنے کی مجموعی گنجائش 253.388  بی سی ایم کے 62 فیصد کے بقدر ہے ۔ ان آبی ذخائر میں سے  37  بڑے آبی ذخائر ایسے ہیں جن میں 60 میگاواٹ  سے زائد پن بجلی پیداکرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔

پانی  کے ذخیر ے کی خطہ وار صورتحال :

شمالی خطہ :

          ملک کے شمالی خطے  میں  ہماچل پردیش ،پنجاب اورراجستھان کی ریاستیں واقع ہیں ۔ان ریاستوں میں  6 بڑے آبی ذخائر موجود ہیں ۔ سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی )  18.01  بی سی ایم  کی مجموعی گنجائش  والے ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی صورتحال پرنگاہ رکھتا ہے ۔ سردست ان آبی ذخائر میں  14.73  بی سی ایم پانی موجود ہے  ، جو  ان آبی ذخائر میں پانی جمع کرنے کی مجموعی گنجائش کے 82  فیصد کے بقدر ہے ۔پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران ان آبی ذخائر میں جمع پانی ان کی مجموعی گنجائش کے 75 فیصد کے بقدر تھا اور پچھلے دس برسوں کی اسی مدت کے اوسط  کے 81 فیصد کے بقدر تھا۔اس طرح   جاری سال کے دوران  ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی صورتحال  پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے بہتر اور پچھلے دس برسوں کی اسی مدت کے  اوسط کے مقابلے بھی بہتر ہے ۔

مشرقی خطہ :

           ملک کے مشرقی خطے میں جھارکھنڈ ،اوڈیشہ ، مغربی بنگال  اور تری پورہ کی ریاستیں واقع ہیں ۔ ان ریاستوں میں  15  بڑے آبی ذخائر موجود ہیں ۔سینٹرل واٹر کمیشن  (سی ڈبلیو سی ) پانی جمع کرنے کی مجموعی گنجائش 18.83 بی سی ایم والے  ان بڑے آبی ذخائر میں جمع پانی کی صورتحال پر نگاہ رکھتا ہے ۔سردست ان آبی ذخائر میں  14.51  بی سی ایم پانی موجود ہے ، جو ان میں پانی جمع ہونے کی مجموعی گنجائش  کے  77 فیصد کے بقدر ہے ۔ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران  ان آبی ذخائر میں  جمع پانی کی مقدار ان کی مجموعی گنجائش کے 85فیصد اور پچھلے دس برسوں کی اسی مدت کے اوسط کے 78 فیصد کے بقدر تھی ۔اس طرح جاری سال کے دوران  ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے کم اور پچھلے دس برس کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے بھی کم ہے ۔

مغربی خطہ:

          ملک کے مغربی خطے میں گجرات اورمہاراشٹر کی ریاستیں  واقع ہیں ۔ان ریاستوں میں 27  بڑے آبی ذخائر موجودہیں ۔ سی ڈبلیو سی 27.07   بی سی ایم کی مجموعی گنجائش والے  ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی صورتحال پر نگاہ رکھتا ہے ۔سردست ان آبی ذخائر میں  20.77  بی سی ایم پانی موجود ہے ، جو ان میں  پانی جمع ہونے کی مجموعی گنجائش کے 77 فیصد کے بقدر ہے ۔ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران  ان آبی ذخائر میں  جمع پانی کی مقدار ان کی مجموعی گنجائش کے 83 فیصد اور پچھلے دس برس کی اسی مدت کے اوسط  کے 80 فیصد کے بقدر تھی ۔اس طرح جاری سال کے دوران ان آبی ذخائر میں  جمع پانی کی مقدار پچھلے سال کے مقابلے کم اور پچھلے دس برس کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے بھی کم ہے ۔

وسطی خطہ :

          ملک کے وسطی خطے میں اترپردیش ، اتراکھنڈ ، مدھیہ پر دیش  اور چھتیس گڑھ کی ریاستیں واقع ہیں۔ان ریاستوں میں  12  بڑے آبی ذخائر موجود ہیں  ۔سی ڈبلیو سی  42.30 بی سی ایم کی مجموعی گنجائش والے ان آبی ذخائر میں   جمع پانی کی صورتحال پر نگاہ رکھتا ہے ۔ سردست ان آبی ذخائر میں 27.38  بی سی ایم پانی موجود ہے ، جو  ان میں پانی جمع ہونے کی مجموعی گنجائش کے 65 فیصد کے بقدر ہے ۔ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران ان آبی ذخائر میں ان کی مجموعی گنجائش کے 91فیصد اور پچھلے دس برسوں کی اسی مدت کے اوسط کے 73 فیصد کے بقدر پانی موجود تھا ۔ اس طرح جاری سال کے دوران  ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے کم اور پچھلے دس برس کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے بھی کم ہے ۔

جنوبی خطہ :

          ملک کے جنوبی خطے میں آندھرا پردیش ،تلنگانہ ،کرناٹک ، کیرل  اور تامل ناڈو کی ریاستیں واقع ہیں ۔ان ریاستوں میں 31  بڑے آبی ذخائر موجود ہیں ۔ 51.59بی سی ایم کی مجموعی گنجائش والے ان آبی ذخائر میں جمع  پانی کی صورتحال پر سی ڈبلیو سی نظر رکھتا ہے ۔سردست ان آبی ذخائر میں  28.46  بی سی ایم پانی موجود ہے ، جو ان آبی ذخائر میں پانی جمع ہونے کی مجموعی گنجائش کے 55 فیصد کے بقدر ہے ۔ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران ان آبی ذخائر میں جمع  پانی کی مقدار  ان کی مجموعی گنجائش کے 53فیصد  اور پچھلےدس برس کی اسی مدت کے اوسط کے 72 فیصد کے بقدر تھی ۔اس طرح جاری سال کے دوران ان آبی ذخائر میں  جمع پانی کی صورتحال پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے بہتر لیکن پچھلے دس برس کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے کم ہے ۔

          جن ریاستوں میں  پانی جمع ہونے کی صورتحال  پچھلے سال کے مقابلے بہتر ہے ان میں ہماچل پردیش ، پنجاب ،تری پورہ ، اتراکھنڈ ، کرناٹک  ، کیرل  اور تامل ناڈو کی ریاستیں شامل ہیں ۔جن ریاستو ں میں  جمع پانی کی صورتحال پچھلے سال کے مساوی رہی ، ان میں  مہاراشٹر واحد ریاست ہے ۔جبکہ جن ریاستوں میں جمع پانی کی صورتحال پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے کم رہی ، ان میں راجستھان ،جھارکھنڈ ،اوڈیشہ ، مغربی بنگال ، گجرات ،اترپردیش ،چھتیس گڑھ  اورآندھر ا پردیش اورتلنگانہ  (دونوں ریاستوں میں مشترکہ منصوبے ) کی ریاستیں شامل ہیں ۔

U-4990

(Release ID :171421)

home  Printer friendly Page