کارپوریٹ امور کی وزارت06-October, 2017 12:44 IST
سرکار کو 13 بینکوں سے کھاتوں سے لین دین اور رجسٹرآف کمپنیز سے خارج کی جانے والی دو لاکھ نو ہزار مشتبہ کمپنیوں کے ذریعہ نوٹ بندی کے بعد بینکوں سے کئے گئے لین دین کی معلومات موصول ہوئیں

جانچ ایجنسیوں کو مدت مقررہ کے طریقے سے ضروری جانچ مکمل کرنے کی ہدایت

 نئیدہلی،06۔اکتوبر۔کالے دھن اورمشکوک کمپنیو ں کے خلاف  سرکار کو بلاشبہ ایک زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے جب اسے 13 بینکوں سے کھاتوں سے لین دین  اور رجسٹرآف کمپنیز سے خارج کی جانے والی دو لاکھ نو ہزار 32  کمپنیوں  کے ذریعہ  نوٹ بندی کے بعد  کئے گئے لین دین    موصول ہوئیں ۔ یاد رہے کہ رجسٹر آف کمپنیز سے اخراج کے بعد ان دو لاکھ نو ہزار 32  مشتبہ  کمپنیوں کے کھاتے   محض دین دایوں کی ادائیگی تک ہی محدود کردئے گئے تھے ۔

          ان 13 بینکوں نے اپنے اعداد وشمار کی پہلی قسط پیش کردی ہے ۔ بینکوں سے موصول  یہ اعداد وشمار   دو لاکھ  کمپنیو ں میں سے خارج کی جانے والی محض 5 ہزار 800  کمپنیوں کے بارے میں ہے  ، جن کے بینکوں میں  13140 کھاتے ہیں ۔  یہ اپنے آپ میں  ایک زبردست انکشاف ہے۔ ان میں سے بعض کمپنیوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کے اپنے ناموں سے سو سو کھاتے ہیں  ۔   ان میں سے ایک کمپنی ایسی بھی ہے جس کے نام 2134  کھاتے ہیں ۔ بعد میں  کچھ کمپنیوں نے 900  اور کچھ نے تین تین سو کھاتے اپنے نام سے کھلوارکھے ہیں ۔ نوٹ بندی سے قبل کے اعدادوشمار میں اکاؤنٹ بیلنس اور ان کمپنیوں کے ذریعہ نوٹ بندی کے دوران کئے جانے والے  لین دین   کے انکشافات اوربھی زیادہ سنسنی خیز ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ  قرض کے کھاتوں سے الگ ہونے کے بعد ان کمپنیوں کا بیلنس 8  نومبر 2016  کو محض 22.05  کروڑروپے ہی تھا ۔

          تاہم نوٹ بندی کے اعلان کے بعد 9  نومبر 2016  سے اب تک کمپنی کے رجسٹر سے خارج ہونے کے بعد ان کمپنیوں نے  4573.87  کروڑ روپے کی خطیر رقم  جمع کرائی ہے  اور 4552 کروڑروپے  ان کھاتوں سے نکالے ہیں اور  قرض کے کھاتوں کے سبب  ان کا  منفی اوپننگ بیلنس     محض 80.79 کروڑ روپے ہی رہ گیا تھا ۔

          8  نومبر 2016  کو منفی بیلنس اور متعدد  کھاتوں کی مالک  کمپنیوں کے بارے میں   بھی بعض انتہائی سنسنی خیز معلومات  موصول ہوئی ہیں ۔ ان کمپنیوں نے اپنے کھاتوں میں  کروڑوں روپے جمع کرائے اورنکالے تھے ۔ بعد میں  یہ کھاتے کم بیلنس کی وجہ سے معطل  کھاتے قراردے دئے گئے تھے ۔ جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے ان کمپنیو ں نے  متعلقہ حکام اور اداروں کے ساتھ فریب دہی  نوٹ بندی  شروع ہونے کے بعد سے اس وقت تک جاری رکھی جب تک ان کے نام رجسٹر آف کمپنیز سے خارج نہیں کردئے گئے تھے ۔  بعض کمپنیاں  ایسی بھی ہیں جو خود جوکھم اٹھاتی رہیں کہ انہوں نے رجسٹر آف کمپنیز سے اخراج کے بعد بھی رقوم جمع کرانے اورنکالنے   کا کام  جاری رکھا ۔

          مثا ل کے طور پر ایسے ایک بینک میں  429  کمپنیاں ایسی پائی گئیں جن کا بیلنس 8  نومبر 2016  کو صفرتھا ۔ ان کمپنیوں نے   11 کروڑروپے جمع کرائے اور نکالے  جس کے بعد   ان کھاتوں میں محض   42 ہزار روپے رہ گئی جس کے نتیجے میں یہ کھاتے معطل ہوگئے ۔

          اسی طرح  ایک دوسرے بینک کا بھی معاملہ سامنے آیا، جس میں  تین ہزار سے زائد کمپنیوں کے کھاتے تھے ، جن میں سے بیشتر نے  کئی کئی کھاتے اپنے نام سے کھول رکھے تھے ،جن کا بیلنس 8  نومبر 2016  کو  13 کروڑروپے  رہ گیا تھا لیکن بعد میں ان کمپنیوں نے اپنے کھاتوں میں تین ہزار کروڑروپے کی رقم جمع کرائی اور نکالی ،جس کے بعد ان کے کھاتوں میں محض 200 کرروڑروپے کی رقم باقی رہ گئی تھی اور ان کے کھاتے معطل کردئے گئے تھے ۔یاد رہے کہ یہ اعداد شمار ان تمام مشتبہ کمپنیوں کے 2.5 فیصد کے بقدر ہیں ، جنہیں سرکار نے رجسٹر آ ف کمپنیز سے سرکار نے خارج کردیا ہے ۔ ان کمپنیوں کے ذریعہ کئے گئے زبردست  رقوم  کے لین دین کو  بدعنوانی  ،کا لے دھن اوردیگر غیر قانونی کام کرنے والے ان کے شاطر مجرم بھائیوں کی بدعنوانیوں کے پہاڑ  کا ایک معمولی  جزو سمجھا جاسکتا ہے ۔

          جانچ کمپنیوں کو  مدت مقررہ کے طریقے سے  ضروری جانچ مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اوراب  ملک اور اس کے ایماندار شہری   ایک مزید صاف اورشفاف مستقبل کی امید کرسکتے ہیں ۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

م ن ۔س ش۔رم

U-4993

(Release ID :171425)

home  Printer friendly Page