نائب صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ06-October, 2017 13:36 IST
انتظامی عمدگی اور تکنالوجی باہم مل کر نیا طریقہ عمل وضع کرسکتے ہیں: نائب صدر جمہوریہ ہند

ریلوے اور میٹرو پروجیکٹ 2017 میں تکنالوجی کے لحاظ سے رونما ہونے والی پیش رفت کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح

نئی دہلی،   6 اکتوبر     2017،        نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ تکنالوجی اور انتظامی عمدگی باہم مل کر ایک نیا طریقہ عمل وضع کرسکتے ہیں۔ موصوف ریلوے اور میٹرو پروجیکٹوں 2017 میں رونما ہونے والی تکنالوجی پیش رفتوں کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد حاضرین سے خطاب کررہے تھے۔ اس کا اہتمام دفاعی بنیادی ڈھانچہ منصوبہ بندی اور انتظامی کونسل، وزارت ریلوے ، شہری ترقیات کی وزارت اور نیتی آیوگ نے مل جل کر کیا ہے۔ ریلوے، کوئلہ کے وزیر جناب پیوش گوئل، ریلوے بورڈ کے چیئرمین جناب اشونی لوہانی اور دیگر عمائدین بھی   اس موقع پر موجود تھے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت میں شہری کرن بڑی تیزی سے رونما ہورہا ہے اور ایسی صورت میں تیز رفتار نقل وحمل اور ہمہ گیر ترقیات کو یقینی بنانے کے لئے موثر اور کم لاگت والے نقل و حمل  کے نظام  کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے نظریات مثلاً تبدیلی سے ہمکنار ترقیات کا تجربہ کیا جانا چاہیے اور اسے فروغ دیا جانا چاہیے جس کے نتیجے میں میٹرو اسٹیشن کے ارد گرد رہنے والے لوگوں کی زندگی میں بڑے پیمانے پر سدھار ہوگا۔

نائب صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ ریلوے کو ضرورت اس بات کی  ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر توسیع کامنصوبہ وضع کرے اور اس کام میں بڑی باریکی سے ہر پہلو کا لحاظ رکھے اور موثر ٹکنالوجیوں، جدید ترین طریقہ کار  جو پوری دنیا میں دستیاب ہے، انہیں اپنائے اور ان تمام امور کو ملک کی آبادی کی توقعات کی تکمیل کے لئے رو بہ عمل لائے۔ نائب صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ آئی انقلاب آج دنیا کو بدلنے میں ایک اہم کردار ادا کررہا ہے اور بھارت نے بھی اس میں اپنا تعاون دیا ہے اور اس کے نتیجے میں سنگلنگ، مواصلات اور سلامتی میں اثر انگیزی میں اضافہ ہوا ہے اور دانش مندانہ نقل و حمل کے نظام میں کافی مدد ملی ہے۔

نائب صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ بھارتی روایات کے پس منظر میں ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ سائنس و تکنالوجی معیار حیات کی کوالٹی کو بہتر بناسکتےہیں اور ہم کہتے ہیں کہ ’بہوجن ہتائے، بہوجن سکھائے‘ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم بڑے پیمانے پر بنی نوع انسان کی فلاح و بہود کے نصب العین کے حامل ہیں اور اس کرۂ ارض پر  پوری بنی نوع انسان کی قوم یا انسانی آبادی  کی مسرت میں یقین رکھتے ہیں۔ ہم اس بات میں بھی یقین رکھتے ہیں کہ جب ہم نئے خیالات و نظریات کو قبول کرنے کے لئے تیار رہیں گے، چاہے وہ ہمارے یہاں اندر سے پیدا ہوئے ہوں یا بیرون سے لئے گئے ہوں، تبھی یہ ممکن ہوسکتا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ ہند نے توقع ظاہر کی کہ اس دو روزہ کانفرنس میں جو تبادلہ خیالات اور گفت و شنید ہوگی وہ متعدد جدید ترین ریلوے نظام وضع کرنے میں مددگار ہوگی اور اس سے معیشت پر اچھا اثر پڑے گا اور بھارت میں اور بیرون بھارت دنیا بھر میں عوام کی معیار حیات میں اضافہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  م ن۔ ن ا۔

(06-10-17)

U- 5003

(Release ID :171427)

home  Printer friendly Page