وزیر اعظم کا دفتر07-December, 2017 13:22 IST
وزیراعظم کا قوم کو ڈاکٹر امبیڈ کر بین الاقوامی سینٹر وقف کرنے کی تقریب کے دوران خطاب

نئی دہلی۔07؍دسمبر۔

کابینہ کے میرے ساتھی جناب تھاور چند گہلوت جی

 

جناب وجے سانپلا جی،

 

 جناب رامداس اٹھاولے جی،

 

 جناب کرشن پال جی،

 

جناب وجے گوئل جی،

 

سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے سیکریٹری جی لتا کرشن راؤ جی

 

اور سبھی موجود سینئر تجربے کار ، بھائیوں اور بہنوں

 

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر کو (ڈی اے آئی سی) ملک کو وقف کرنے کا موقع ملا ہے.

یہ میرے لئے دوہری خوشی کی بات ہے کہ اس انٹر نیشنل سینٹر کے قیام کا موقع مجھے اپریل 2015 دیا گیا تھا۔ بہت ہی کم  وقت میں، بلکہ اپنے طے  شدہ وقت سے پہلے، اس عظیم بین الاقوامی مرکز کو تیار کیا گیا  ہے. میں اس مرکز کی تعمیر سے  جڑے ہوئے ہر محکمہ کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں.

مجھے پوری امید ہے  کہ  یہ مرکز بابا  صاحب  کی تعلیمات، ان کے خیالات کو پھیلانےکے لئے ایک  حوصلہ افزا  مقام  کار ول نبھائے گا. ‘‘ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں ہی ڈاکٹر امبیڈکر انٹر نیشنل سینٹر  برائے سماجی - اقتصادی تبدیلی کی بھی تعمیر کی گئی ہے۔ یہ سینٹر سماجی اور اقتصادی موضوعات پر تحقیق کے کام میں بھی ایک اہم مرکز بنے گا۔’’

'سب کا ساتھ سب کا وکاس'، جسے کچھ لوگ جامع ترقی کہتے ہیں، اس منتر پر چلتے ہوئے کیسے اقتصادی اور سماجی مسائل پر غور کیا جائے، اس سینٹر میں ایک تھنک ٹینک یعنی مفکر کی طرح اس پر بھی غور ہوگا.

اور مجھے لگتا ہے کہ نئی نسل کے لئے یہ مرکز ایک نعمت کی طرح آیا ہے، جہاں پر  آکر وہ  بابا صاحب کے نقطہ نظر کو دیکھ سکتے ہیں، سمجھ سکتے ہیں.

ساتھیوں، ہمارے ملک میں وقتاً فوقتاً ایسی عظیم  شخصتیں پیدا ہوتی رہی ہیں، جو نہ صرف سماجی بہتری کا چہرہ بنتی ہیں، بلکہ ان کے خیالات ملک کے مستقبل کو گھڑتے ہیں ، یہ بھی بابا صاحب کی حیرت انگیز طاقت تھی کہ ان کے جانے کے بعد،  بھلے برسوں تک ان کے خیالات کو دبانے کی کوشش ہوئی،  ملک اور قوم کی تعمیر میں ان کی شراکت  داری اور خدمات  کو مٹانے کی کوشش کی گئی، لیکن بابا صاحب کے خیالات کوایسےلوگ عام لوگوں کے دل سے نہیں ہٹا پائے۔

اگر میں یہ کہتا ہوں کہ جس  خاندان کے لئے یہ سب کیا اس خاندان سے زیادہ لوگ آج بھی بابا صاحب متاثر ہیں تو میری یہ بات غلط نہیں ہوگی ۔ بابا  صاحب  کا ملک اور قوم کی تعمیر میں جو تعاون ہے اس وجہ سے ہم سبھی بابا صاحب کے  احسان مند ہے ہماری سرکار کی یہ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ان کے خیالات  پہنچیں۔ خاص کر نوجوان نسل ان کے بارے میں جانے، ان کا مطالعہ کرے۔

اور اس لئے اس سرکار میں بابا صاحب کی زندگی سے جڑے ہوئے اہم مقامات کو زیارت کی شکل میں  تیار کیا جارہا ہے۔ دہلی کے علی پور میں جس گھر بابا صاحب کا انتقال ہوا  وہاں ڈاکٹر امبیڈکر قومی میموریل تعمیر کی جا رہی ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے مہو میں، جہاں بابا صاحب کی پیدائش ہوئی،  اسے بھی زیارت کے طور پر فروغ دیا جارہا ہے۔ لندن کے جس گھر میں بابا صاحب رہتے تھے اسے بھی خرید کر مہاراشٹر  کی بی جے پی حکومت ایک یادگار کے طور پر تیار کررہی ہے۔ اسی طرح، ممبئی میں اندومل کی زمین پر امبیڈکر میموریل تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ناگپور میں  دکشا   بھومی  کو بھی  ترقی دی جا رہی ہے۔ یہ پنچ  تیرتھ ایک طرح سے بابا صاحب کو آج  کی نسل کی طرف سے خراج عقیدت ہے۔

ویسے، پچھلے برس مجازی دنیا میں ایک چھٹا زیارت گاہ کی بھی تعمیر ہوئی ہے۔ یہ  زیارت گاہ ملک کو  ڈیجٹیل طریقے سے  توانائی دے رہا ہے اور بااختیار بنارہا ہے۔گزشتہ سال شروع کیا گیا  بھارت انٹر فیس فار منی- یعنی بھیم ایپ بابا صاحب کے اقتصادی ویژن کو اس حکومت کی طرف سے خراج تحسین تھا۔ بھیم ایپ  غریبوں، دلتوں، محروم ،پسماندہ اور استحصال کا شکار لوگوں کے لئے ایک  نعمت  بن کر آیا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،  بابا صاحب نے اپنی زندگی میں جو جدوجہد کی اس سے ہم پوری طرح واقف ہیں  لیکن ان کی زندگی جدوجہد کے ساتھ ہی امیدوں کی ترغیب سے بھی بھری ہوئی ہیں ۔ مایوسی اور نا امیدی سے، بہت دور ایک ایسے ہندوستان کا خواب جو  اپنی  اندرونی  برائیوں کو ختم کرکے  سب کو ساتھ لے کر چلے گا۔ آئینی اجلاس کی پہلی میٹنگ کے کچھ دن بعد ہی 17 دسمبر 4619کو انہوں نے اسی اجلاس کی میٹنگ میں کہا تھا اور میں ان کے الفاظ بول رہا ہوں۔

‘‘اس ملک کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی ترقی  آج نہیں تو کل ہوگی ہی۔ صحیح وقت اور حالات آنے پر یہ عظیم الشان ملک ایک ہوئے بغیر نہیں رہے  گا۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کے اتحاد کے آڑے نہیں آ سکتی۔

اس ملک میں بہت سے فرقوں اور ذاتوں کے ہونے کے باوجود کسی نہ کسی طریقے سے ہم سبھی ایک ہوجائیں گے اس بارے  میں میرے دل میں  ذرا بھی شک نہیں ہے۔

ہم اپنے طرز عمل سے یہ بتا دیں گے کہ ملک کے سبھی  عوامل کواپنے ساتھ لے کر اتحاد کے راستے پر آگے بڑھنے کی ہمارے پاس جو طاقت ہے، اسی طرح کی ذہنی صلاحیت بھی ہے۔

یہ تمام الفاظ بابا  صاحب امبیڈکرکے ہیں، کتنا اعتماد !مایوسی کا کوئی نشان نہیں! ملک کی سماجی برائیوں کا جس شخص نے زندگی  بھر سامنا کیا ہے  وہ ملک  کو لے کر کتنی امیدوں سے بھرا ہوا تھا۔

بھائیوں اور بہنوں، ہمیں یہ قبول کرنا ہوگا کہ آئین کی تعمیر سے لے کر آزادی کے اتنے برسوں بعد بھی ہم بابا صاحب کی ان  امیدوں کو ، اس خواب کو، پورا نہیں کر پائے ہیں۔ کچھ لوگوں کے لئے،  کئی بار  پیدائش کے وقت ملی ذات، پیدائش کے وقت ملی زمین سے زیادہ اہم ہو جا تی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آج بھی نئی نسل میں وہ صلاحیت ہے،  وہ  قابلیت ہے جو ان  سماجی برائیوں کو ختم کرسکتی ہیں ۔ خاص طور پر گزشتہ 15-20 سالوں میں جو تبدیلی میں دیکھ رہا ہوں، اس کا پورا سہرا نئی نسل کو ہی میں دینا پسند کروں گا۔ وہ اچھی طرح سمجھتی ہے کہ ملک کو ذات کے نام پر کون بانٹنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ اچھی طرح سمجھتی ہے کہ ملک ذات کے نام پر الگ الگ ہوکر اس رفتار سے آگے نہیں بڑھ پائے گا جس رفتار سے  ہندوستان کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اس لئے جب میں نئے بھارت کو ذاتوں کے بندھن سے آزاد کرنے کی بات کرتا ہوں تو اس کے پیچھے نوجوانوں پر میرا اٹوٹ بھروسہ ہوتا ہے آج کی نوجوان  نسل  بابا صاحب کے خواب کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ساتھیوںٍ!1950 میں جب ملک جمہوری بنا ،تب بابا صاحب نے کہا تھا اور میں انہی کے الفاظ دوہرا رہا ہوں۔

ہمیں صرف سیاسی جمہوریت سے ہی مطمئن نہیں ہوجاناچاہئے۔ ہمیں سیاسی  جمہوریت کے ساتھ ساتھ  سماجی جمہوریت بھی بننا ہے۔ سیاسی جمہوریت تب تک نہیں ٹک سکتی  جب تک اس کی بنیاد سماجی جمہوریت پر مبنی نہ ہو۔

یہ سماجی جمہوریت ہر ہندوستانی کے لئے آزادی اور مساوات کا ہی منتر تھا۔ برابری صرف حق کا ہی نہیں بلکہ یکساں سطح سے زندگی جینے کی بھی  برابری ہونی چاہئے۔آزادی کے ا تنے برسوں بعد بھی ہمارے ملک میں یہ صورتحال رہی ہے کہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کی زندگی میں یہ برابری نہیں آئی۔ بہت بنیادی چیزیں ، مثلاً بجلی کے کنکشن، پانی کے کنکشن، ایک چھوٹا سا گھر، زندگی کا بیمہ ان کے لئے زندگی کی بہت بڑی چنوتیاں بنی رہی ہیں۔

اگر آپ ہماری سرکار کے کام کرنے کے طور  طریقوں کو دیکھیں گے ، ہمارے کام کرنے کے  ڈھنگ کو دیکھیں گے تو پچھلے تین سال  یاساڑھے تین سال میں ہم نے بابا صاحب کی سماجی جمہوریت کے خواب کو ہی پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سرکار کی اسکیمیں سماجی جمہوریت کو مستحکم کرنے والی رہی ہیں۔ جیسے جن دھن یوجنا کی ہی بات کریں، اس اسکیم نے ملک کے کروڑوں غریبوں کو بینکنگ نظام سے جڑنے کا حق دیا۔ ایسے لوگوں کے زمرے میں لا کھڑا کیا جن کے پاس اپنے بینک کھاتے ہوتے تھے۔ جن کے پاس ڈیبٹ کارڈ ہوا کرتے تھے۔

اس اسکیم کے توسط سے سرکار 30 کروڑ سے زیادہ غریبوں کے بینک کھاتے کھلوا چکی ہے 23 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو روپے ڈیبٹ کارڈ دیئے جاچکے ہیں۔ اب غریب میں بھی وہ  برابری کا جذبہ آیا ہے وہ بھی اے ٹی ایم کی  اُسی  لائن میں لگ کر روپئے ڈیبٹ کارڈ سے پیسے نکالتے ہیں۔ جس لائن کو دیکھ کر وہ ڈرا کرتے تھے۔ جس میں لگنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

 مجھے نہیں پتہ یہاں موجود کتنے لوگوں کو ہر چوتھے پانچویں مہینے گاؤں جانے کا موقع ملتا ہے۔ میری اپیل ہے آپ سے کہ جن لوگوں کو گاؤں گئے ہوئے بہت دن ہوگئے ہوں وہ اب جا کر دیکھیں! گاؤں میں کسی غریب سے اُجولا ّیوجنا کے بارے میں پوچھیں تب انہیں پتہ  لگے گا کیسے اُجولاّ یوجنا نے کیسے اس فرق کو مٹا دیا ہے کہ کچھ گھروں میں پہلے گیس کنکشن ہوتا تھا اور کچھ گھروں میں لکڑی، کوئلے پر کھانا بنتا تھا! یہ سماجی بھید بھاؤ کی بڑی مثال تھی جسے اس سرکار نے ختم کردیا ہے۔ اب گاؤں کے غریب کےگھر میں بھی گیس پر کھانا بنتا ہے  اب غریب خاتون کو لکڑی کے دھوئیں میں اپنی زندگی نہیں گزارنی پڑتی۔

یہ ایک فرق آیا ہے اور جو گاؤوں سے زیادہ جڑے ہوئے لوگ ہیں، وہ اسے اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں جب آپ گاؤں جائیں، تو ایک اور اسکیم کا اثر دیکھیئے گا کہ کیسے سوچھ بھارت مشن سے گاؤں کی عورتوں میں مساوات کا فرق آیا ہے۔ گاؤں کے کچھ ہی گھروں میں بیت الخلاء کا ہونا اور زیادہ تر میں نہ ہونا ایک بے قاعدگی پیدا کرتا تھا۔ گاؤں کی خواتین کی صحت اور ان کے تحفظ پر بھی اس کی وجہ سے بحران پیدا ہوتا تھا لیکن اب دھیرے دھیرے ملک کے زیادہ تر گاؤوں میں بیت الخلاء بن رہے ہیں جہاں پہلے صفائی کا دائرہ 40 فیصد تھا وہ اب بڑھ کر 70 فیصد سے زیادہ ہوگیا ہے۔

سماجی جمہوریت کو مضبوط کرنے کی سمت میں بہت بڑا کام اس سرکار کی بیمہ اسکیمیں بھی کررہی ہے۔ پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا اور جیون جیوتی یوجنا سے اب تک ملک کے اٹھارہ کروڑ غریب اس کے ساتھ جڑ چکے ہیں۔ ان اسکیمیوں کے توسط سے صرف1 روپئے مہینے پر  حادثہ بیمہ، اور 90 پیسے یومیہ کے پریمیم پر جیون بیمہ کیا جارہا ہے۔

آپ جان کر حیران رہ جائیں گے  کہ ان اسکیموں کے تحت غریبوں کو اٹھارہ سو کروڑ روپئے تک کا کلیم، اس کی رقم دی جاچکی ہے۔ سوچئے، آج گاؤں دیہات میں رہنے والا غریب اتنی بڑی فکر سے آزاد ہورہا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں، بابا صاحب کے خیالات کی بنیاد میں یکسانیت بہت سی شکلوں میں دکھائی دے رہی ہیں۔

عزت اور احترام کی یکسانیت

قانون کی برابری

حق کی برابری

انسانیت کے وقار کی برابری

موقع کی برابری

ایسے کتنے ہی موضوعات کو بابا صاحب نے اپنی زندگی میں لگا تار اٹھایا۔ انہوں نے ہمیشہ امید جتائی تھی کہ ہندوستان میں سرکاریں آئین کا پاس رکھتے ہوئے بنا پنت کا فرق کئے ہوئے ،بنا ذات کا فرق کئے ہوئے چلیں گی۔ آج اس سرکار کی اسکیم میں آ پ کو بنا کسی بھید بھاؤ سبھی کو برابری کا حق دینے کی کوشش کرے گی۔

 جیسے ابھی حال ہی میں سرکار نے ایک اور اسکیم شروع کی ہے۔ پردھان منتری سہج ہر گھر بجلی اسکیم یعنی سوبھاگیے، اس اسکیم کے تحت ملک کے چار کروڑ ایسے گھروں میں بجلی کا کنکشن مفت دیا جائے گا جو آج بھی آزادی کے 70 سال بعد بھی 18 ویں صدی میں جینے کے لئے مجبور ہیں، ایسے4 کروڑ ایسے گھروں میں مفت میں بجلی کا کنکشن دیا جائے گا۔ پچھلے 70 سالوں سے نا برابری چلی آرہی تھی وہ سوبھاگیہ یوجنا سے ختم ہونے جارہی ہیں۔

 برابری بڑھانے والی اس کڑی میں ایک اور اہم اسکیم ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا۔ آج بھی ملک میں کروڑ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس اپنی چھت نہیں ہے۔ گھر چھوٹا ہو یا بڑا پہلے گھر ہونا ضروری ہے۔

اس لئے سرکار نے نشانہ رکھا ہے کہ 2022 تک گاؤں ہو یا شہر ہر غریب کے پاس اس کا اپنا گھر ہو۔ اس کے لئے سرکار اقتصادی مدد دے رہی  ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کو قرض کے سود میں چھوٹ دے رہی ہےکوشش یہی ہے کہ گھر کے معاملے پر برابری کا جذبہ پیدا ہو اور کوئی بھی گھر سے محروم نہ رہے۔

 بھائیوں اور بہنوں، یہ اسکیمیں اپنی طے شدہ رفتار  کے مطابق  بڑھ رہی ہیں اور اپنے طے شدہ وقت پر یا اس سے پہلے ہی پوری  بھی ہونگی۔

آج یہ ڈاکٹر امبیڈ کر بین الاقوامی سینٹر اس بات کا بھی جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اس سرکار میں اسکیمیں اٹکتی اور بھٹکتی نہیں ہیں جو نشانے طے کئے جاتے ہیں انہیں پورا کرنے کے لئے اس سرکار میں پوری طاقت لگا دی جاتی ہے اور یہی ہمارا عزم ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ ہر اسکیم کو نشانے کے ساتھ نہ صرف پانے بلکہ اسے طے شدہ وقت میں پورا بھی کریں اور یہ ابھی سے نہیں ہے۔ سرکار نےکچھ مہینوں  پہلے ہی یہ سمت طے کردی تھی۔

آپ کو یاد ہوگا میں نے 2014 میں لال قلعہ کی فصیل سے کہا تھا کہ ایک سال کے اندر ملک کے سبھی سرکاری اسکولوں میں بیٹیوں کے لئے الگ بیت الخلاء ہوگا ہم نے ایک سال کے اندر اسکولوں میں 4 لاکھ سے زیادہ بیت الخلاء بنائے ہیں ۔اسکولوں میں بیت الخلاء نہ ہونے کی وجہ سے جو بیٹیاں پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دیتی تھیں ان کی زندگی میں کتنی بڑی تبدیلی آئی ہےیہ آپ پوری طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔

ساتھیو! سال 2015 میں لال قلعہ سے ہی میں نے ایک اور اعلان کیا تھا۔ ایک ہزار دن میں ملک کے ان اٹھارہ ہزار گاؤوں تک بجلی پہنچانے کا جہاں آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی بجلی نہیں پہنچیں ہیں۔ ابھی ایک ہزار دن پورے ہونے میں کئی مہینے باقی ہیں اور اب صرف دو ہزار گاؤوں میں بجلی پہنچانے کا کام باقی رہ گیا ہے۔

دوسری اور اسکیموں کی بات کروں تو کسانوں کو سوائل ہیلتھ کارڈ دینے کی اسکیم فروری 2015 میں شروع کی گئی تھی۔ ہم نے نشانہ رکھاتھا کہ 2018 تک ملک کے 14 کروڑ کسانوں کو سوائل ہیلتھ کارڈ دیئے جائیں گے اب تک 10 کروڑ کسانوں کو سوائل ہیلتھ کارڈ دیئے جاچکے ہیں یعنی ہم نشانے سے بہت دور نہیں ہیں۔

اسی طرح پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا جولائی 2015 میں شروع کی گئی تھی۔ ہم نے نشانہ رکھا تھا کہ برسوں سے اٹکی ہوئی ملک کی 99 ویں سینچائی پریوجناؤں کو 2019  تک پورا کریں گے۔اب تک 21ہزار اسکیمیں پوری کی جاچکی ہیں۔ اگلے سال پچاس سے زیادہ اسکیمیں پوری کرلی جائیں گی۔ اس اسکیم کی رفتار بھی طے شدہ نشانے کے دائرے میں ہے۔

کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت ملے، انہیں فصل بیچنے میں آسانی ہو، اسے دھیان میں رکھتے ہوئے ۔ ای۔ نیشنل ایگریکلچرل مارکیٹ اسکیم( ای ۔ نیم اسکیم) اپریل 2016 میں شروع کی گئی تھیں۔ اس اسکیم کے تحت حکومت نے ملک کی 580 سے زیادہ منڈیوں کو آن لائن جوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب تک 470 سے زیادہ زرعی منڈیوں کو آن لائن جوڑا جاچکا ہے۔

پردھان منتری اجولا ّ یوجنا جس کا ذکر میں نے پہلے بھی کیا وہ پچھلے سال یکم مئی کو شروع کی گئی تھی۔ سرکار نے نشانہ رکھا تھا کہ 2019 تک 5 کروڑ غریب عورتوں کو مفت کنکشن دیں گی۔ صرف 19 مہینوں میں حکومت 3 کروڑ 12 لاکھ سے زیادہ عورتوں کو مفت گیس کنکشن دے چکی ہے۔

 بھائیوں اور بہنوں! یہ ہمارے کام کرنے کا طریقہ ہے بابا صاحب جس وژن  پر چلتے ہوئے غریبوں کو برابری کا حق دینے کی بات کرتے تھے اسی وژن پر  سرکارچل رہی ہے۔ اس سرکار میں اسکیموں کی تاخیر کو مجرمانہ لاپروائی مانا جاتا ہے۔

اب اس سینٹر کو ہی دیکھئے اسے بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا 1992  میں۔ لیکن 23 سال تک کچھ نہیں ہوا۔ اس سرکار نے ہمارے آنے کے بعد سنگ بنیاد رکھا  اور اس سرکار میں اس کی نقاب کشائی بھی کردی گئی۔ جو سیاسی جماعتیں بابا صاحب کے نام کو لے کر ووٹ مانگتی ہیں۔انہیں تو شاید یہ پتہ بھی نہیں ہوگا۔

خیر، آج کل انہیں بابا صاحب نہیں، بابا بھولے یاد آرہے ہیں۔ چلئے اتنا ہی صحیح۔

ساتھیوں! جس طرح یہ سینٹر اپنی طے شدہ تاریخ سے پہلے بن کر تیار ہوا اسی طرح کتنی ہی اسکیموں میں اب طے شدہ وقت کو کم کیا جارہا ہے۔ایک بار جب سارے انتظامات پٹری پر آچکے ہیں۔ اسکیمیں رفتار پکڑرہی ہیں تو ہم طے شدہ وقت کو اور بھی کم کررہے ہیں تاکہ نشانے کو اور جلدی حاصل کیاجاسکے۔

جیسے ابھی حال ہی میں ہم نے مشن اندردھنش کے لئے جو وقت کی حد طے کی تھی۔ اسے دو سال کم کردیا گیا ہے۔ مشن اندر دھنش کے تحت سرکار ملک کے ان علاقوں تک ٹیکہ کاری مہم کو پہنچا رہی ہے جہاں پہلے سے چلے آرہے ٹیکہ کاری اسکیموں کی  پہنچ نہیں تھی۔ اس وجہ سے لاکھوں بچے اور حاملہ خواتین ٹیکہ کاری سے چھوٹ جاتے تھے۔ اس مہم کے تحت اب تک ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچوں اور ستر لاکھ سے زیادہ حاملہ عورتوں کو ٹیکہ لگایا جاچکا ہے۔

پہلے سے سرکار کا نشانہ 2022 تک ملک میں مکمل ٹیکہ کاری کوریج کو حاصل کرناتھا۔ ا سے بھی گھٹا کر اب سال 2018 تک کا عہد کرلیا گیا ہے۔ اس نشانے کو حاصل کرنے کے لئے مشن اندردھنش کے ساتھ انٹینسی فائڈ مشن اندر دھنش کی شروعات کی گئی ہے۔

اسی طرح سرکار نے ہر گاؤں کو سڑک سے جوڑنے کا نشانہ 2022 طے کیا تھا لیکن جیسے ہی رفتار پکڑی کام میں تیزی آئی، تو ہم نے اسے بھی 2022 کی بجائے 2019 کو پورا کرنے کی اسکیم بنا دی ہے۔

ساتھیو! اٹل جی کی سرکار میں پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا شروع ہوئی تھی لیکن اتنے سالوں بعد بھی اب تک ملک کے سبھی گاؤوں سڑک رابطے سے جڑے نہیں ہیں۔ ستمبر 2014 میں صورتحال یہ تھی ہمارے آنے کے بعد کی صورتحال کی میں بات کرتا ہوں ہم مئی کے مہینے میں آئے 2014 میں ،میں نے جائزہ لیا 2014 میں صورتحال یہ تھی کہ صرف 57 فیصد گاؤں ہی سڑکوں سے جڑے ہوئے تھے تین سالوں کی کوشش کے بعد اب 81 فیصد، 80 فیصد سے بھی زیادہ گاؤں سڑک سے جڑ چکے ہیں۔ اب سرکار 100 فیصد گاؤوں کو سڑک رابطے سے جوڑنے کے لئے بہت تیز رفتار سے کام کررہی ہے۔

حکومت کا زور ملک کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے دلت پچھڑے بھائی بہنوں کو خود روزگار کے لئے بھی ترغیب دینے پر ہے۔ اس لئے جب ہم نے اسٹینڈ اپ انڈیا پروگرام شروع کیاتھا تو ساتھ ہی یہ بھی طے کیا تھا کہ اس اسکیم کے توسط سے ہر بینک برانچ کم سے کم ایک درج فہرست ذات یادرج فہرست قبائل کے لوگوں کو قرض ضرور دے گی۔

بھائیوں اور بہنوں! آپ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ ملک میں روزگار کے معنی بدلنے والی مدرا یوجنا کے تقریبا60 فیصد فائدہ اٹھانے والے دلت ، پچھڑے اور آدی واسی لوگ ہی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت اب تک تقریباً پونے دس کروڑ قرض منظور کئے جاچکے ہیں اور لوگوں کو بنا بینک ضمانت چار لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ قرض دیا جاچکا ہے۔

ساتھیوں! سماجی حق اس سرکار کے لئے صرف کہنے سنے کی بات نہیں ہے۔ بلکہ ایک وعدہ ہے جس نئے انڈیا کی بات کرتا ہوں وہ بابا صاحب کے بھی خوابوں کا ہندوستان ہے۔

سبھی کو برابر کے موقع، سبھی کو برابر کا حق۔ ذات کے بندھن سے آزاد ہمارا ہندوستان! ٹیکنالوجی کی طاقت سے آگے بڑھتا ہوا ہندوستان، سب کا ساتھ لے کر، سب کا وکاس کرتا ہوا ہندوستان۔

آئیے، بابا صاحب کے خوابوں کو پورا کرنے کا ہم عہد کریں ۔ بابا صاحب ہمیں 2022 تک ان وعدوں کو پورا کرنے کی طاقت دیں۔ اسی خواہش کے ساتھ میں اپنی بات کو ختم کرتا ہوں۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ!!! جے  بھیم جے بھیم جے بھیم

 

***********

م ن۔  ح      ا۔ رض

(07-12-2017) Words-3,384

U-6150

(Release ID :174161)

home  Printer friendly Page