Print ReleasePrint
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
05-August-2016 11:18 IST
شہید اعظم چندر شیکھر آزاد
شہید اعظم چندر شیکھر آزاد

شہید اعظم چندر شیکھر آزاد

’آزادی 70 سال  یاد کرو قربانی‘

*ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی

زندہ قومیں اپنے ماضی اور اپنی تاریخ کو فراموش نہیں کیا کرتیں ۔در اصل اپنے ماضی کو یاد رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک زندہ قوم ہے۔ دانشمندی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ماضی کے دوش پر سوار ہوکر مستقبل کا سفر طے کیا جائے تاکہ کوئی دشواری پیش نہ آئے۔کسی شاعر نے اس موقع کے لیے بہت ہی عمدہ شعر کہا ہے ،

حال کو مستقبل کی خاطر جوڑ رکھا ہے ماضی سے

تیر  کو  جتنا  پیچھے  کھینچو  اتنا  آگے  جاتا  ہے

اس شعر سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ روشن مستقبل کا سفر طے کرنا ہے تو ماضی میں جانا ہی پڑے گا۔ اس مختصر سی تمہید کے بعد یہ کہنے کی شاید ضرورت نہیں ہے کہ ہم آج 85؍ سال بعد یوم آزادی کے موقع پر شہید اعظم چندر شیکھر آزاد کو کیوں یاد کر رہے ہیں ؟ ان کی قربانی ، ان کی جدو جہد آزادی کا از سر نو مطالعہ کیوں کر رہے ہیں ؟ہم یہ سوال بھی قائم کر سکتے ہیں کہ آج انگریزوں کی حکومت نہیں ہے اور نہ ہی ہم کسی کے غلام ہیں تو پھر چندر شیکھر آزاد کے قصہ کو دوہرانے کی ضرورت کیا ہے ؟تاہم اس سوال کے ساتھ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ زندہ قومیں احسان فراموش بھی نہیں ہوتیں اور جو قومیں احسان فراموش ہوتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں ۔تاریخ میں ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہوتا ۔یعنی زندہ رہنا ہے تو ہمیں ان لوگوں کو یاد رکھنا پڑے گا جنھوں نے ہمارے روشن مستقبل کے لیے اپنی زندگی قربان کر دی ۔

چندر شیکھر آزاد جیسے نہ جانے کتنے ہندوستانی نو جوانوں نے ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی۔ انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے کے لیے سر پر کفن باندھ لیا تھا ۔چندر شیکھرآزاد کے ساتھ ساتھ بھگت سنگھ ، راج گورو ، سکھ دیو ، اشفاق اللہ خان ، رام پرساد بسمل اور نہ جانے کتنے نوجوان ہیں جنھوں نے ملک پر جان نچھاور کردی تھی تاکہ ملک آزاد ہو سکے ۔مضمون کے درمیان بڑی معذرت کے ساتھ ایک بات عرض کرنی ہے وہ یہ کہ جب راقم الحروف نے یہ مضمون قلم بند کرنے کا فیصلہ لیا تو راقم بہ نفس نفیس الہ آباد کے لیے روانہ ہو گیا تاکہ الفریڈ پارک، جو، اب چندر شیکھر آزاد پارک ہو گیا ہے، جاکر، پورے احساس کے ساتھ مضمون قلم بند کرسکے ۔حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ چندر شیکھر آزاد پارک میں واقع قدیم پبلک لائبریری میں راقم الحروف کو ایک بھی کتاب دستیاب نہیں ہوئی ۔صرف ایک کتاب ’’میری جیل کی ڈائری ‘‘ کے سلسلہ میں معاون لائبریرین نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں لیکن افسوس کہ وہ کتاب بھی لائبریر ی میں موجود نہیں تھی۔مجھے مایوسی ہوئی لیکن میں اب یونیورسٹی روڈ الہ آباد کی طرف چل پڑا کیونکہ یہاں کتابوں کی منڈی ہے ، افسوس کہ یہاں بھی چندر شیکھر آزاد پر کوئی کتاب دستیاب نہیں ہو سکی ۔مجھے بتایا گیا کہ آنند بھون کے سامنے کتاب مل سکتی ہے ۔میں آنند بھون کے سامنے پہنچا جہاں فٹ پاتھ پر دکانیں لگی ہوئی تھیں ،افسوس کہ وہاں بھی چندر شیکھر آزاد کی حیات و خدمات پر کوئی کتاب نہیں تھی البتہ ایک ہندی زبان میں چیتن شرما کے ذریعہ قلم بند کی گئی کتاب ’’ بھارت کے مہان کرانتکاری ‘‘دستیاب ہوئی۔ 510؍ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں صفحہ نمبر326؍ پر تین چار صفحات میں چندر شیکھر آزاد کا ذکر کیا گیا ہے ۔زیر قلم مضمون میں کچھ باتیں مذکورہ بالا کتاب سے بھی شامل کی جائیں گی لیکن کہنا یہ ہے کہ شہید چندر شیکھر آزاد کی مونچھوں والی تصویر یں تو لوگ اپنے گھروں میں آویزاں کرتے ہیں۔الفریڈ پارک (موجودہ چندر شیکھر آزاد پارک )میں جس جامن کے درخت کے نیچے چندر شیکھر آزاد نے انگریزوں کے حوالہ خود کو کرنے کی بجائے گولی مار لیتے ہیں اور شہید ہوجاتے ہیں وہاں ان کا قدآور مجسمہ نصب کیا گیا ہے ۔راقم نے دیکھا کہ نوجوان اس قد آور مجسمہ کے ساتھ کھڑے ہوکر تصویریں لے رہے تھے ۔میرے لیے یقیناًیہ بہت خوشی کی بات تھی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض بت برستی سے چندر شیکھر آزاد کے کردار اور قربانی کے مقصد کو سمجھا جا سکتا ہے ؟ کیا ان کی زندگی ، ان کے اخلاق ، ان کے کردار اور ان کے جذبات کے سلسلہ میں مطالعہ نہیں کرنا چاہئے ؟کیا نئی نسل کو یہ نہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ایک غریب گھر کا بچہ کس طرح تاریخ میں اپنا سنہری حروف میں اپنا نام درج کرا گیا ؟

چیتن شرما نے اپنی کتاب ’’ بھارت کے مہان کرانتکاری ‘‘ میں چندرشیکھر آزاد کے سلسلہ میں لکھا ہے ’’معروف مجاہد آزادی چندر شیکھر آزاد 23؍ جولائی1906؍کو مدھیہ پردیش کی جھابوا تحصیل کے بھانورا گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ان کے اجداد اتر پردیش میں اناؤ ضلع کے بدرکا گاؤں کے رہنے والے تھے ۔ان کے والد محترم سیتا رام تیواری روزگار کی تلاش میں بھانورا گاؤں گئے اور پھر وہیں بس گئے تھے ۔چندر شیکھر کا بچپن گاؤں میں ہی گزرا تھا ۔ان کے والد کو محض 5؍ روپے ماہانہ مزدوری ملتی تھی۔اس وجہ سے ان کے والد چاہتے تھے کہ چندر شیکھر کوئی کام کرتے ہوئے گھر کو چلانے میں ان کی مدد کرے ‘‘۔ اس کے بعد لکھا گیا ہے کہ چندر شیکھر آزاد ممبئی گئے اور وہاں کافی دنوں تک خلاصی کی نوکری کی اور وہیں سے وہ سنسکرت پڑھنے کے لیے بنارس روانہ ہو گئے کیونکہ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھانا پینا بھی مفت تھا ۔یہیں سے چندر شیکھر آزاد گاندھی جی کے ذریعہ چلائی جانے والی آزادی کی تحریک میں شامل ہو گئے ۔چندر شیکھر آزاد نے غیر ملکی اسلحوں اور شراب کی دکانوں کے خلاف پہلی مرتبہ دھرنا دیا اور گرفتار کر لیے گئے تھے۔گرفتاری کے بعد انھیں پارسی مجسٹریٹ جناب کھرے گھاٹ کی عدالت میں حاضر کیا گیا۔چیتن شرما اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ۔’’ وہاں (عدالت میں ) پوچھے جانے پر انھوں نے خود کا نام ’ آزاد ‘ اور اپنے والد کا نام ’سوادھین اور گھر ’جیل ‘ بتایا تھا ‘‘۔ یہی وہ موقع تھا جب چندر شیکھر کے نام کے ساتھ آزاد منسوب ہو گیا تھا ۔آزاد کا یہ نعرہ کہ ہم آزاد ہیں۔ آزاد رہیں گے اور آزاد ہی مریں گے اگر نوجوانوں تک پہنچایا جائے تو میرے خیال سے آج کی غلامی سے بھی نئی نسل آزاد کرایا جا سکتا ہے ۔

ہمیں یہ پیغام دینا چاہئے کہ ایک معمولی گھر کا بچہ حب الوطنی کے جذبہ کے ساتھ میدان عمل میں آتا ہے تو ہیرو بن کر ابھرتا ہے ۔آج کی موجودہ سیاست جب اپنے مقصد سے بھٹک چکی ہے اور ہر طرف لوٹ  کھسوٹ مچی ہوئی ہے اور مفاد پرستی کا بازار گرم ہے تو ہمیں چندر شیکھر آزاد جیسے مجاہد آزادی کے کردار کو منظر عام پر لانا چاہئے اور بات پوری آزادی کے ساتھ کہنی چاہئے کہ ملک کی آزادی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ 50؍ کروڑ ہندوستانی دو وقت کی روٹی کے لیے محتاج رہیں اور سیاست داں عیش و عشرت کی زندگی گزاریں ۔آئی اے ایس ، آئی پی ایس ، آئی آر ایس دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے دن رات جد و جہد کرنے والے نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جب تک ملک کا نظام درست نہیں ہوگا ان کی اعلیٰ خدمات کا کوئی مول نہیں ہوگا چنانچہ نوجوانوں کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہئے ۔چندر شیکھر آزاد بہت تعلیم یافتہ نوجوان نہیں تھے لیکن ان کی فکر بہت اعلیٰ تھی نیز اسی فکر کا نتیجہ تھا کہ ملک کو آزاد کرانے کے لیے انھوں نے خود کو قربان کر دیا تھا۔چندر شیکھر آزاد کے کردار و عمل کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بے سہارا لوگوں کی مدد کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ، کسی کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کرتے ، حق کی آواز بلند کرتے ہیں اور کسی بھی طرح کی مصلحت پسندی کو قریب نہیں آنے دیتے ۔کیا آج کے نوجوانوں کو چندر شیکھر آزاد کی زندگی سے یہ سبق نہیں لینا چاہئے ؟آخر میں میں اپنا ذاتی احساس آ پ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ جب میں چندر شیکھر آزاد سے منسوب اس مقام پر پہنچا (جہاں انھوں نے انگریزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے 27؍ فروری 1931؍ کواپنے ریوالور سے خود کو گولی مار لی تھی اور خود کو انگریزوں کے حوالہ نہیں کیا تھا) اور تھوڑی دیر کے لیے احساسات کی دنیا میں سفر کیا تو اندازہ ہوا کہ شہادت کیا ہوتی ہے اور شہید کیا ہوتا ہے ۔غلامی ، نا انصافی ،مصلحت پسندی سے آزادی کیسے نصیب ہوتی ہے ۔ اگر ہمیں چیدر شیکھر آزاد کو سچا خراج عقیدت پیش کرنا ہے تو پھر آزادی کے مقصد کو پورا کرنا ہوگا اور ان کے مشن کو ایک مرتبہ پھر آگے بڑھانا ہوگا ۔

۔۔۔۔

*مصنف معروف صحافی اور اردو روزنامہ انقلاب سے وابست ہیں۔

New Delhi

Date: 10-08-2016

The Great Freedom Fighter-Chandra Shekhar Azad

UF-4077