Print ReleasePrint
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
09-August-2016 12:28 IST
عظیم مجاہد آزادی ‘پنجاب کیسری’ لالہ لاجپت رائے

 

خصوصی مضمون

Text Box: آزادی 70 برس
یاد کرو قربانی

LALA LAJPAT RAI.jpg

*از نورالدین انصاری

 لالہ لاجپت رائے  28 جنوری 1865 کو پنجاب کے ضلع موگا کے موضع دُھدکے میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد منشی رادھا کرشنن پیشے  سےایک مدرس  تھے اور اُن کی والدہ کا نام گلاب دیوی تھا۔ وہ اپنے والدین کے فرزند اکبر تھے۔ اُن کے والد  اگر چہ  قوم کے لحاظ سے‘ اگروال ’ برادری سے تعلق رکھتے تھے، لیکن انہوں نے درس و تدریس کو ہی  بطور پیشہ اپنا  یا تھا اور اردوزبان کے استاد تھے۔ لالہ لاجپت رائے کی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائر سکنڈری اسکول ریواڑی(جو، اب ہریانہ میں ہے) سے شروع ہوئی تھی۔

          لالہ لاجپت رائے نے 1879 میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے لاہور کے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ کالج کی تعلیم کے دوران وہ لالہ ہنس راج اور گورودت  جیسے وطن پرست اور مستقبل کے مجاہدین آزادی کے رابطے میں آئے۔ بہت جلد یہ تینوں اصحاب اچھے  دوست بن گئے اور سوامی دیا نند سرسوتی کے ذریعہ قائم کردہ آریہ سماج تحریک  میں شامل ہو گئے۔ آریہ سماج میں شمولیت کے بعد لالہ لاجپت رائے نے بہت جلد اس تنظیم میں ایک منفرد مقام حاصل کر لیا اور تنظیم کے ذریعے شائع کئے جانے والے ‘ آریہ گزٹ’ کے ایڈیٹر مقرر ہو گئے۔ آگے  چل کر انہوں نے دیا نند  اینگلو ویدک اسکول بھی قائم کیا۔

1885 میں لالہ لاجپت رائے نے  قانون کی تعلیم مکمل کی اور   پہلے ہسار(جو ، اب  ہریانہ میں ہے) اور بعد ازاں لاہور میں وکالت شروع کر دی۔ وکالت کے  پیشے سے وابستہ ہونے کے باوجود  ،وہ ، آریہ سماج سے برابر وابستہ رہے اور دیانند کالج کے قیام کے لئے سرمایہ بھی جمع کرنے کے لئے کوشاں رہے اور آریہ سماج کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ لالہ جی کی   شخصیت بڑی فعال شخصیت تھی اور انہوں نے آریہ سماج کے ساتھ ساتھ انڈین نیشنل کانگریس میں بھی شمولیت اختیار کر لی۔  بہت جلد انہیں انڈین نیشنل کانگریس میں اہم مقام حاصل ہو گیااور 1907 میں  انہیں  انڈین نیشنل کانگریس   کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں برما ( اب میانمار) کی  منڈلائے جیل بھیج د یا گیا۔  6 مہینے  کی قیدو بند کی زندگی گزارنے کے بعد اُنہیں 11 نومبر 1907 کو منڈلا  ئےجیل سے رہا کر دیا گیا۔  لالہ جی ہسار نگر پالیکا کے رکن اور سکریٹری بھی رہے تھے۔

1920 میں لالہ لاجپت رائے ، کولکاتہ میں منعقدہ انڈین نیشنل کانگریس کے خصوصی اجلاس میں اس کے صدر منتخب ہوئے ۔ 1921 میں  انہوں نے سرونٹ آف دی پیپل سوسائٹی کی بنیاد رکھی۔  لالہ لاجپت رائے انڈین نیشنل کانگریس کے تین اہم قوم پرست رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ ا نہیں لال، بال، پال( یعنی لالہ لاجپت رائے، بال گنگا دھر تلک اور بپن چندر پال) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ لالہ لاجپت رائے نے انڈین نیشنل کانگریس میں رہتے ہوئے ‘‘ نرم دل’’ (جس کی رہنمائی پہلے گوپال کرشن گوکھلے کے  پاس تھی) کے نظریات سے اختلاف کر کے گرم دل کی بنیاد رکھی۔ لالہ جی نے تقسیم بنگال کے خلاف تحریک میں بڑھ چڑھ کر  حصہ لیا اور برطانوی حکومت کی نظر وں میں کھٹکنے لگے۔ انہوں نے سریندر ناتھ بینرجی، بپن چندر پال اور اروندو گھوش کے ساتھ مل کر  ‘‘ سودیش سشکت’’ نام کی مہم بھی چلائی۔ اسی مہم  کی  سرگرمیوں میں حصہ لینے کے نتیجے میں انہیں برطانوی حکومت نے ملک میں  ‘نقض امن’ کے بہانے گرفتار کر کے میانمار کی منڈلا ئے جیل بھیج دیا تھا۔

 میانمار کی جیل سے رہا ہونے تک بھارت کی جنگ آزادی   نے کافی شدت اختیار کر لی تھی۔  رہا ہونے کے فوراً بعد ہی لالہ جی نے ازسرنو بڑ ے جوش و خروش سے جنگ آزادی کی تحریک میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا اور اس سلسلے میں ان کا نظریہ یہ تھا کہ ہندوستانی عوام کے تئیں برطانوی حکومت کے  جا برانہ اور آمرانہ سلوک   نیز ہندوستان کے اصل حالات سے دوسرے ممالک کے عوام کو بھی با خبر کیا جائے۔  اس سلسلے میں لالہ لاجپت رائے نے 1907 میں امریکہ کے لئے رخت سفر باندھا۔ امریکہ پہنچ کر انہوں نے  امریکہ کے مغربی  سا حلی علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں کے دانشوروں اور دیگر تعلیم یافتہ طبقات تک ہندوستان کی آو از پہنچائی۔  بعد میں انہوں نے اپنے اس دورے کی یادوں پر مشتمل ایک سفر نامہ بھی تحریر کیا۔  انہوں نے امریکہ میں  ‘انڈین ہوم لیگ آف امریکہ ’ کی بنیاد بھی رکھی اور بعدازاں ‘‘ ینگ انڈ یا’’ نام کی ایک کتاب بھی تحریر کی۔  اپنی اس کتاب میں لالہ لاجپت رائے نے برطانوی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ہندوستانی عوام کے تئیں برطانوی حکومت کے جابرانہ سلوک کو  اجاگر کیا تھا اور حکومت پر  سنگین الزامات عائد کئے تھے۔ چنانچہ برطانوی حکومت نے اس کتاب کو برطانیہ اور ہندوستان دونوں جگہ اشاعت سے قبل ہی ممنوع قرار دے دیا۔

 20-1919 میں اولین عالمی  جنگ کے خاتمے کے بعد لالہ لاجپت رائے ہندوستان لوٹ آئے اور یہاں پہنچنے کے بعد انہوں نے کانگریس کے خصوصی اجلاس کی صدارت کی اور تحریک عدم تعاون چلانے کا اعلان کیا۔  انہوں نے بڑی بے باکی کے ساتھ جلیاں والا باغ میں ہوئے قتل عام کے خلاف احتجاج کیا اور اس احتجاج کی پاداش میں1921 سے 1923 کے دوران قیدوبند کی صعوبتیں جھیلیں۔ جیل سے رہا ہونے کے فوراً بعد انہوں نے پھر اپنی سرگرمی شروع کردی اور متعدد بار گرفتار اور رہا ہوئے۔  اسی دوران چَوری-چَورا  سانحہ رونما ہوا۔ گاندھی جی نے تحریک عدم تعاون کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ تاہم لالہ لاجپت رائے گاندھی جی کے فیصلے سےمتفق نہیں تھے اور احتجاج کے طور پر لالہ جی نے کانگریس انڈ ی پنڈنس پارٹی کی بنیاد رکھی۔

Attact-on-Lala-Lajpat-Rai.jpg

1928 میں برطانوی حکومت نے آئینی اصلاحات پر امکانات کا جائزہ لینے اور تبادلۂ خیالات کی غرض سے سر جان سائمن کی قیادت میں ایک کمیشن تشکیل دیا، جسے سائمن کمیشن کے نام سے جانا گیا اور اسے ہندوستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔  کیونکہ سائمن کمیشن   میں کوئی بھی ہندوستانی رہنما شامل نہیں کیا گیا تھا اس  وجہ سے ہندوستانی رہنماؤں میں کمیشن کے تئیں  عام بیزاری   و مایوسی اور غم وغصے کا احساس جاگزیں تھا۔ 30 اکتوبر 1928 کو سائمن کمیشن ہندوستان وارد ہوا اور پورے ملک میں اس کمیشن کی زبردست مخالفت ہوئی۔  یہ کمیشن  لاہور کے دورے پر بھی گیا۔ لالہ لاجپت رائے اور ان کے رفقا نے  اس کمیشن کی آمد کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے ،  ایک خاموش جلوس نکالا۔  خود لالہ جی اس خاموش اور پُر امن جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔  تاہم برطانوی حکومت نے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بڑی بے رحمی سے اس جلوس کے شرکا پر لاٹھی چارج کروادیا۔  اس لاٹھی چارج کے نتیجے میں لالہ لاجپت رائے  کے سر  اور جسم پر  پولیس کی لاٹھی سے سنگین چوٹیں آئیں۔جان پی سونڈرس نام کے اے ایس پی نے لالہ جی پر لاٹھیوں کے کئی وار کئے اور لالہ جی سنگین طور پر زخمی ہو گئے اور انہیں زخموں کی تاب نہ کر 17 نومبر 1928 کو 63 برس کی عمر میں وہ اس درفانی سے کوچ کر گئے۔  جس وقت پولیس کے جوان اس خاموش جلوس کے شرکا پر لاٹھیاں برسارہے تھے اور اے ایس پی سونڈرس لالہ جی پر ضربیں لگا رہا تھا، تو لالہ جی نے کہا تھا کہ میرے جسم پر پڑنے والی ہر لاٹھی بھارت میں برطانوی حکومت کے تابوت کی  آخری کیل ثابت ہو گی۔

لا لہ لاجپت رائے کا شمار ہندوستان میں برطانوی حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف پوری بہادری سے نبردآزما ہونے والے اہم رہنماؤں میں ہوتاہے۔ وہ اپنی بہادری کے لئے مشہور تھے اور اسی بنیاد پر وہ پنجاب کیسری یعنی شیر پنجاب کے نام سے جانے جاتے تھے۔  لالہ جی کی موت سے پورے ملک میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی اور چندر شیکھر آزاد، شیوارام راج گورو، سکھدیو تھاپر اور بھگت سنگھ جیسے سورماؤں نے لالہ جی کی موت اور  اس ظالمانہ حملے کا بدلہ لینے کا  فیصلہ کیا۔  ان جانباز وطن پرستوں نے لالہ جی کی وفات کے ٹھیک ایک ماہ بعد اپنے عہد کو سچ کر کے دکھایا اور 17 دسمبر 1928 کو برطانوی حکومت کے پولیس افسر جان سونڈرس کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔  لالہ جی کی موت کا بدلہ لینے کی اس کارروائی کی پاداش میں برطانوی حکومت نے راج گورو، سکھ دیو اور بھگت سنگھ کو قتل کے معاملے میں ماخوذ کر کے پھانسی کی سزا سنائی اور 23 مارچ 1931 کو ان تینوں مجاہدین آزادی کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔

پنجاب کیسری لالہ لاجپت رائے اگرچہ برطانوی حکومت کے ظلم کا شکار ہو کر شہید ہو گئے، لیکن انہوں نے اپنے دور کے مجاہدین آزادی کو جو درس دیا تھا، وہ بڑے کام کا تھا۔ انہوں نے جو راستہ دکھایا تھا اسی راستے پر مجاہدین آزادی آگے بڑھتے گئے اور آخر کار بے انتہا قربانیوں اور جدو جہد کے بعد 15 اگست 1947 کو بھارت آزاد ہو گیا۔  لالہ جی کی شہادت کے بعد بھی ان کا نام زندہ و تابندہ ہے۔ ان کے پیروکاروں نے 1959 میں لالہ لاجپت رائے ٹرسٹ قائم کیا، جس کا اہم مقصد بھارت میں تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ مہاراشٹر میں لالہ لاجپت رائے کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس  بھی ملک کے اسی عظیم سپوت کے نام سے موسوم ہے۔  ہسار کی لالہ لاجپت رائے یونیورسٹی آف ویٹی رینری اینڈ اینیمل سائنسز بھی انہیں کی یاد میں قائم کی  گئی تھی۔ اس کے علاوہ دلی سمیت دیگر تمام اہم شہروں میں کوئی نہ کوئی ادارہ یا مقام یا سڑک یا سوسائٹی لالہ جی کے نام سے ضرورموسوم ہے، جو ان کی مقبولیت کا بین ثبوت ہے۔  لالہ  لاجپت رائے کا نام بھا رت کی جدو جہد آزادی کی تاریخ میں سنہری حروف میں  د رج ہے اور بھارت کا بچہ بچہ ان کا نام احترام و عزت سے لیتا ہے     -؎

شہیدوں کی مزاروں پر لگیں گے ہر برس میلے

وطن پر مرنے والوں کا یہی باقی نشاں ہوگا

 

The Great Freedom Fighter Lala Lajpat Rai

*مصنف اردو روزنامہ سالار ہند کے نامہ نگار ہیں۔                 UF-3989/08.08.2016