Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
14-August-2016 11:18 IST
ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی کا مرد مجاہد ۔ تانتیا ٹوپے

آزادی ۔ستّر سال ،یاد کرو قربانی

آزادی  ۔ستّر سال   ،یاد کرو قربانی

*: از ۔ نور اللہ خان

 

  ہندوستانیوں کے دلوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور  انگریزوں کے خلاف  جو تاجروں کی  حیثیت سے ملک میں  داخل ہوئے تھے اور دھیرے دھیرے پورے ملک پر  قبضہ کرکے اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی تھی، نفرت اور غصے کی چنگاری اندر ہی اندر سلگ رہی تھی ،  وہ 1857  میں ایک جوالا مکھی بن کر ملک کے کونے کونے میں بغاوت کی شکل میں نمودار ہوگئی ۔   ہندوستانی باشندے  ان غیر ملکی حکمرانوں   کے  جبر و اِستبداد ، استحصال  اور نسلی بھید بھاؤ   کی پالیسیوں سے تنگ آگئے تھے  اور  وہ اب ہرقیمت پر اس غیر ملکی  تسلط کو جڑ سےاکھاڑنے  کے در پر  تھے  ۔ ادھر  انگریزوں  نے ملک کے سماجی  ڈھانچے  میں تبدیلی  لانے کے لئے  کچھ اصلاحات   کی تھیں، جو لوگوں  کو بے حد ناگوار ہوئی  تھیں۔ اس کے علاوہ  انگریزوں نے برطانوی  نظام تعلیم  کو بھی  ملک میں لاگو کرنے کی کوشش کی تھی۔    اس   کے ساتھ  ہی ساتھ انہوں نے ہندو ستانی فوجیوں  کو کچھ نئے کارتوس بھی استعمال کرنے کے لئے   دیئے تھے۔ ان کارتوسوں کی تیار یوں میں    جوچربی استعمال کی گئی تھی   اس کے بارے میں عام خیال تھا کہ وہ  ہندو اور مسلمان دونوں قوموں اور مذاہب کے اصولوں کے لئے لحاظ سے دراصل  ممنوع جانوروں کی چربی ہے  ۔ چونکہ  ان کارتوسوں کو بندوق  میں بھرنے سے  پہلے دانتوں سے کانٹنا پڑتا تھا۔  اس لئے سارے ہندوستانی فوجی اور  عام باشندے اس نئے فرمان سے بے حد   مشتعل  ہوگئے تھے  ۔  انہیں محسوس ہورہا تھا کہ  اب انگریز     ان کے  مذہبی  جذبات سے بھی کھلواڑ کرنے پر آمادہ ہیں۔ کارتوسوںمیں ممنوعہ جانوروں کی چربی کی آمیزش کی  اس خبر نے ایک چنگاری کا کام کیا اور  پورا ملک    انگرویزوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ انگریز  حکمرانوں سے دوسری غلطی  یہ ہوئی  کہ انہوں نے   اس بغاوت کو   فرد کرنے کے لئے سختی  برتنے  کی کوشش کی اور  سینکڑوں ہندوستانی  باشندوں    کو  جان سے مارکر ان کی لاشیں پیڑوں پر لٹکا  دیں تاکہ   لوگوں میں خوف و ہراس پیدا  ہو اور  وہ اس بغاوت سے باز آجائیں۔

 انگریز حکمرانوں کے ایسے ہی  مخالفین   اور  ہزاروں باغیوں میں سے  ایک نمایاں  نام تانتیاٹوپے  کا بھی  ہے، جنہوں نے  انگریزی حکومت  کے غیر ملکی  تسلط  اور جبر  و استبداد کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوششوں  میں بے حد اہم  رول ادا کیا تھا۔  تانتیاٹوپے  ،  جنہیں  تاریخ میں ایک اور نام یعنی  رام چندر پانڈو رنگ کے نام سے بھی جانا  جاتا ہے۔ 1814 میں  مہاراشٹر  کے ایک گاؤں    گولا میں پیدا ہوئے  تھے۔ ان کے والد پانڈ  و رنگ راؤ  ٹوپے،  پیشوا بالا جی  راؤ ۔  II  کے دربار میں ایک  اہم عہدے پر فائز تھے۔ پیشوا کا خاندان جب  بٹھور منتقل ہوا تو وہ بھی   اپنے  کنبے کے ساتھ  بٹھور چلے گئے   جہاں ان کے بیٹے  کو پیشوا کے گود لئے ہوئے بیٹے نانا صاحب دھوندو پنت  کی  ، جو کہ بعد میں نانا صاحب  کے نام سے مشہور ہوئے، قربت حاصل ہوگئی۔

 1851 میں جب لارڈ  ڈلہوزی نے نانا صاحب    کو ان    کے ٰوالد کی پنشن سے انہیں ( یعنی نانا صاحب کو) متبنیٰ  ہونے کا  بہانہ  بناکر  محروم کردیا تو تانتایا ٹوپے   بھی برطانوی  حکمرانوں کے کٹر دشمن بن گئے ۔ مئی  1857 میں جبکہ  تقریبا ً پورے  ملک میں  داخلی طور  پر ایک زبردست  سیاسی  طوفان تیزی سے کروٹیں لے رہا تھا  ،   وہ کانپور میں تعینات  ایسٹ انڈیا کمپنی  کے فوجیوں کے دل جیتنے  میں کامیاب ہوگئے   اور انہوں نے  نانا صاحب   کو پیشوا بناکر نانا صاحب کی  حکومت  کا اعلان کردیا اور خود باغی فوجوں کے کمانڈر ۔  ان ۔ چیف بن گئے  اور آگےبڑھ کر کانپور فتح کرلیا ۔  

کانپور  پر قبضہ کرنے  کے بعد  تانتیاٹوپے نے اپنا صدر دفتر  کالپی میں منتقل  کرلیا  اور  جھانسی کی   رانی لکشمی بائی  کے ساتھ ملک کر بندیل کھنڈ  میں علم بغاوت  بلند کردیا۔ بعض وجوہات کی بنا پر   انہیں  بیٹوا ، کونچھ اور کالپی میں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ کسی طرح  بھیس بدل کر گوالیار  پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں انہوں نے گوالیار کے   فوجیوں کی مدد سے   نانا صاحب کو پیشوا بنا دیا ۔  لیکن اس سے پہلے  کہ وہ وہاں اپنی  پوزیشن مستحکم کرپاتے ،  انہیں  جنرل روز (Rose)  کے سا تھ ہوئی  ایک  یادگار  جنگ میں ، جس میں   رانی لکشمی بائی کو بھی  جام شہادت نوش کرنا پڑا  ، شکست ہوگئی  اور  گوالیار ہاتھ سے نکل گیا۔

گوالیار  کے ہاتھ سے     نکل  جانے کے بعد تانتیاٹوپے نے حکومت برطانیہ  کے خلاف  ساگر،  خاندیش اور نربدا کے علاقے میں چھاپہ مار کارروائیاں  شروع کردیں اور آہستہ آہستہ اپنی کارروئیوں کو راجستھان تک وسعت دے  ڈالی  ۔ برطانوی فوج ایک سال سے زیادہ  عرصے تک  ان کو گرفتار کرنے کے لئے سرگرداں رہی لیکن وہ ہر بار ،  بڑی ہوشیاری سے بچ کر نکل جانے میں کامیاب ہوتے رہے ۔ آخر کار  ان کے ایک قریبی  دوست نما  دشمن  مان سنگھ نے   جو کہ نرور کے چیف تھے، انہوں نے  ان کے ساتھ غداری کی  اور جب وہ پیرون کے جنگل  میں واقع اپنے کیمپ میں سوئے تھے،  انہیں غا فل پاکر پوری نمک حرامی کے  ساتھ برطانوی حکمرانوں کوسونپ دیا ۔ برطانوی فوج  انہیں گرفتار کرکے   سیپری  لے گئی جہاں پر فوجی عدالت میں  ان پر مقدمہ چلایا گیا اور 18 ا پریل 1859 کو انہیں برطانوی حکومت کا باغی قرار دیکر  پھا نسی دے دی گئی۔

   اگرچہ  تانتایہ ٹوپے کو برطانوی سامراج نے پھانسی پر چڑھا دیا لیکن  جدوجہد آزادی میں جو کردار  تانتایہ ٹوپے نے ادا کیا اور عوام کے دلوں میں آزادی حاصل کرنے کی  جو  ، جوت جلائی،   اسکی روشنی تمام اہل وطن کو   غیر ملکی غلامی سے نجات پانے کےلئے   راستہ دکھاتی رہی  اور آخر کا  ر، بڑی قربانیوں اور کشمکش کے بعد، 15 اگست1947 کو  بھارت، برطانوی تسلط سے آزاد ہوگیا۔  تانتیا  ٹوپے کا نام  بھارت کی اولین جنگ آزادی کی تاریخ میں سنہری حروف میں  درج ہے، ہر  محب وطن کے د ل پر لکھا ہوا جسے کوئی نہیں مٹا سکتا۔

 

·           مو صوف پی آئی بی کے سبکدوش ڈائریکٹر ہیں

م ن۔ ۔ج۔  16-8-2016  

 Uf. 4249

Tantiya Tope- The Great freedom Fighter of first freedom struggle