Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
16-August-2016 15:41 IST
انسانی فضلہ ڈھونے کی قبیح رسم کا خاتمہ

بھارت سوچھتا ابھیان

            2016

 

 

*از: محمد احمد

انسانی فضلہ ڈھونے کی قبیح رسم کا خاتمہ آزادی کے ساٹھ سالوں بعد آج بھی ہمارے لئے ایک زبردست چیلنج بنا ہوا ہے ۔ملک کو آزاد ہوئے 70سال ہونے جارہے ہیں مگر آج بھی ہمارے سماج میں ایسے لوگ موجود ہیں جو انسانوں کے فضلے یعنی غلاظت کو ہاتھ سے اٹھانے کا کام کرتے ہیں ۔ آزاد ہندوستان میں کئی بار اس با ت کی دہائی دی گئی کہ سرکاریں چاہتی ہیں کہ انسانی فضلے کو ڈھونے کے قبیح طریقے کا خاتمہ ہو اور اس گھناؤنے پیشے سے سماج کو ہمیشہ ہمیش کے لئے نجات دلائی جائے ۔ تاہم سچائی یہی ہے کہ یہ خواب آج بھی ہمارے لئے ایک خواب ہی ہے ۔اور آزادی کے ساٹھ سالوں بعد بھی اس کی تعبیر نظرنہیں آتی اور ایسا لگتا ہے کہ اس کی تعبیر مستقبل قریب میں بھی نہیں حاصل ہونے والی ہے۔
در اصل میلا ڈھونے کا کام ایک طرح سے موروثی پیشہ رہاہے ۔ ہمارے ملک میں بہت سے چیزیں ایسی ہیں جو وراثت میں ملتی چلی آئی ہیں۔ ا س میں میلا ڈھونے کا پیشہ بھی شامل ہے ۔ یہ کام ہمارے ملک میں صدیوں سے دلت سماج کے ذمہ رہاہے جسے اب بالمیکی یاپہلے ’ہیلا ‘ کہا جاتا تھا ۔آزاد بھارت میں کتنے افراد وخواتین انسانی فضلے کو اٹھانے اور ڈھونے کا کام کرتے ہیں اس کے صحیح صحیح اعداد وشمار تو دستیاب نہیں ہیں تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق آزاد بھارت میں تقریباً سات لاکھ لوگ اس پیشے سے وابستہ ہیں جبکہ بعض متعلقہ اعداد و شمار نہایت ہی چونکانے والے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 9.6ملین لوگ اس پیشے سے وابستہ ہیں۔2011کے اعداد وشماکے مطابق آج بھی آٹھ لاگھ گھروں سے میلا ڈھویا جاتا ہے ۔ ملک میں سب سے زیادہ خشک بیت الخلاء جموں و کشمیر، مغربی بنگال اور اتر پردیش میں ہیں۔ جبکہ گجرات ، مدھیہ پردیش راجستھان ، اتر پردیش یہ ایسی ریاستیں جہاں انسانوں کے ذریعے فضلہ ڈھونے کا کام سب سے زیادہ ہوتا ہے ،ویسے شاید ہی بھارت کی کوئی ریاست ہوگی جہاں اس پیشے سے وابستہ افراد نہ پائے جاتے ہوں۔ 

میلا ڈھونا یعنی انسانوں کے فضلے کو خشک بیت الخلاؤں سے جھاڑو کی مدد سے اٹھانے کا کام ابھی بھی ملک میں برقرار ہے ۔کچھ اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں1لاکھ 80ہزار دلت گھر گھر جاکر 7لاکھ 90ہزار عوامی یا انفرادی جگہوں سے میلا ڈھونے کا کام کرتے ہیں ۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ اس طرح میلا ڈھونے والوں میں بڑی تعداد ہیں، خواتین ، لڑکیاں اور بچے ایسے بھی ہیں جنہیں معمولی تنخواہ یا یوں کہیں نہ کے برابر اُجرت دی جاتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ میلاڈھونے کے کام میں ہمارے ملک میں سب سے زیادہ تعداد میں خواتین ہی اس پیشے سے وابستہ ہیں ۔ اور ان کا تناسب 95 فیصد کے پاس ہے ۔ مطلب یہ کہ وہ عورت اس کام میں لگی ہوئی ہے جو گھر کی ملکہ یا رانی ہے ۔ وہ عورت جس کا کام آنے والی نسلوں کو سنوارنا تھا اور اس ملک کے لئے ایسے سپوت پیداکرنا تھے جن میں مہاتما گاندھی ، مولانا ابوالکلام آزاد، اشفاق اللہ خان ، شہید بھگت سنگھ اور سردار پٹیل جیسے اجداد کی صلاحیتیں پنہاں ہو ں، اگر وہ عورتیں اس کام میں لگی رہیں گی تو ہمارے لئے یہ سوچنا مشکلنہیں ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں اور ہمارا مستقبل کیا ہوسکتاہے ۔ 

 ہمارے ملک کا آئین اور اس کا قانون انسانوں کے ذریعے میلا ڈھونے پر پابندی عائد کرتا ہے ۔ پابندی کے ساتھ ساتھ اس کے اس کے خلاف سخت اقدام کی بات بھی کرتا ہے ، لیکن اگر دیکھیں تو اس معاملے میں ہونے والے اقدامات سوالوں کے گھیرے میں ہیں ۔ یو ں تو ہمارے ملک میں 19سال قبل انسانوں کے ذریعے میلا ڈھونے یا خشک بیت الخلاؤں کی تعمیر/استعمال کرنے پر پابندی عائد ہوچکی ہے ۔ تاہم اس پابندی پر اس طرح عمل نہیں ہوپایا ہے جس طرح سے ہونا چاہئے تھا ۔

ہمیں خوشی ہے کہ ہماری موجودہ سرکار نے سوچھ بھارت کا نعرہ دیا ہے۔ یعنی ایک ایسا بھارت جو صاف ستھرا اور ہرا بھرا ہو ۔ ہم صاف ستھرے اور ہرے بھرے ماحول میں سانس لے سکیں۔ سوچھ بھارت میں شروعاتی دونوں میں جس طرح سے کوشش کی گئی اور اس کے لئے دیگر ذرائع کا استعمال کرکے جس طرح کی تشہیر کی گئی ہے اس سے بلا شبہہ لوگوں میں ایک بیداری بھی آئی ہے جو کسی تریاق سے کم نہیں ہے ۔سماج کو جتنا ہی بیدار اور حساس بنایا جائے گا اتنا ہی ملک اور قوم کے لئے یہ چیز مفید ثابت ہوگی ۔ انسانی فضلہ اٹھانے اور ڈھونے کے قبیح پیشے کے خاتمے کے لئے بھی ہمت اور حوصلہ کے ساتھ نیت اور ارادے کی اشد ضرورت ہے ۔یہ ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو اس مقام تک پہونچاسکتی ہیں، جس کی اس کو توقع نہ ہو اور اس نے اس کا تصور تک نہ کیا ہو۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ؂

اگر ہمت کرے تو کیا نہیں انسان کے بس میں 
یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلو م ہوتی ہے

اس شعر میں شاعر اس بات کی ترغیب دے رہا ہے کہ اگر انسان ارادوں کا پکا اور من کا دھنی ہو تو اس کو اس کی منزل ضرور ملے گی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے کہ انسانی فضلے کو ڈھونے سے وابستہ افراد کو اس پیشے سے نجات دلانے کیلئے ابھی تک ہماری سرکار وں نے جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل تعریف بھی ہے اور اس بات کے امکانات ہیں کہ ؂ 

چلے چلئے کہ چلنا ہی دلیل کامرانی ہے

جو تھک کر بیٹھ جاتے ہیں وہ منزل پانہیں سکتے

مایوسی کی نہ ضرورت ہے اور نہ گنجائش ہے ۔ہمیں تھک کر بیٹھنے کے بجائے اس سمت میں پوری ایمانداری اور دیانتداری سے کام کرنا ہوگا ۔ کیونکہ ہمارے سامنے پولیو کے مرض کی مثال ہے جب ہم نے ارادہ کرلیا کہ پولیوکو جڑسے ختم کرنا ہے تو ہم نے ختم کردیا۔پھر میلاڈھونے کے پیشے کا خاتمہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ بس ضرورت ارادے اور نیت کی ہے۔اس سے بڑی مثال ہمارے سامنے ہے ۔جب ہمارے اجداد نے ملک کو آزاد کرانے کا ارادہ کیاتو پورا سماج انگریز حکومت کے خلاف متحد ہوگیا اور اس نے سامراجی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس کو ملک چھوڑنے کے لئے مجبور ہونا پڑا ۔پھر میلے کی دستی صفائی کا خاتمہ کیوں کر ممکن نہیں ہے ۔ اس کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ سرکاریں پوری طرح کمربستہ ہوں اور وہ اس بات کو یقینی بنانے کا مصمم عزم کرلیں کہ ملک سے ہمیشہ ہمیش کے لئے اس گندے پیشہ کا خاتمہ کرنا ہی کرنا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ اس کی کوشش مرکزی سرکار کی سطح کے بجائے ریاستی سرکاروں کی سطح پر زیادہ ہونی چاہئے،تبھی اس پیشہ کا کلی خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

اس پیشہ سے وابستہ لوگوں کی شناخت بغیر کسی عار اور شرم کے فوری طور پر کرنی ضروری ہے ۔اس کے بعد اس کے لئے ایک سینٹر پوائنٹ بنانے کی ضرورت ہے جہاں ایسے افراد کے متعلق تمام تفصیلات دستیاب ہوں ۔ یہ کام ضلع کے بجائے بلاک اور قصبہ کی سطح پر ہونا چاہئے۔ ساتھ ہی جن افسران یا لوگوں کو ان کی شناخت کرنے کے لئے کہاجائے ان کی جوابدہی بھی ضروری ہے کہ وہ اس کام کو پوری ایمانداری سے انجام دیں۔ 
یہاں ایک اور بات ہمیں سمجھ لینی چاہئے کہ اس پیشہ سے جتنے لوگ وابستہ ہیں وہ اپنی خوشی سے اس پیشے سے وابستہ نہیں ہیں ، بلکہ افلاس اور غربت نے ہی انہیں اس پیشہ سے جوڑ رکھا ہے ۔ جب تک ہم مسائل کی جڑ وں تک نہیں پہونچیں گے تب تک کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوسکتا چاہے اس کے لئے ہم کتنی ہی کوششیں کرلیں سب بیکار ثابت ہوں گی ۔ اس کے بعد ایسے لوگوں کو آئی کارڈ ایشو کئے جانے کی ضرورت ہے اور ایسے لوگوں کی ٹریننگ اور ان کو جدید توانائی سے لیس کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔اس سمت میں ’اسکل انڈیا ‘کا پروگرام کافی مفید ثابت ہوسکتا ہے تاکہ ایسے افراد کو جدید ٹکنالوجی سے آراستہ کیا جاسکے ۔

قابل غور ہے کہ ایک شخص جو ہر روز ہمارے گھر کا کوڑا لے کر جاتا ہے اور ہم اس کو کوڑے والا کہہ کر مخاطب کرتے ہیں جب کہ وہ ہماری گندگی صاف کرتا ہے۔ اگر ہم اپنی سوچ بدل لیں اور اسے صفائی والا کہہ کر مخاطب کریں جس کا وہ جائز طور پر حق دار بھی ہے تو کتنا بہتر ہوگا یعنی سوچ میں بھی تبدیلی لانے کی شدید ضرورت ہے ۔ سماج میں اونچ نیچ کی کھائی کو بھی ہم سب کومل جل کر پاٹنا ہوگا۔ آج ہمارے ملک میں صرف ریلوے کے ذریعہ سے ریل کی پٹریوں کے درمیان جس طرح سے گندگی پھیلائی جاتی ہے ذرا سوچیں کہ کیا اس کا کوئی جواز ہے ۔ اس سمت میں بھی سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم جب یہ سوچ رہے ہیں اور ہمارا عزم مصمم ہے کہ اکیسویں صدی ہماری ہو تو کیوں نہ اس میں ہم ایک ایسا سماج بنانے کے لئے آگے آئیں جس میں انسانی فضلہ ڈھونے کے پیشے کا کوئی وجود نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*مضمون نگار روزنامہ سیاسی تقدیر کے بیورو چیف ہیں 

م ن۔ ع ن

UF-4264

17-08-2016