Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
17-August-2016 14:49 IST
صحت و تندرستی کے لئے صفائی ستھرائی لازمی شئے ہے

صحت و تندرستی کے لئے صفائی ستھرائی لازمی شئے ہے

بھارت سوچھتا ابھیان 2016

*علی حیدر

انسانی تہذیب و تمدن میں ابتداء سے ہی جسمانی اور روحانی صفائی اور پاکیزگی و طہارت پر زور رہاہے ۔دنیا کے تمام مذاہب اور قدیم ترین تہذیبیں خصوصیت سے صفائی پر زور دیتی رہی ہیں ۔صفائی انفرادی اور اجتماعی دونوں پہلوؤں پر احاطہ کرتی ہے اور دونوں کی اپنی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ۔۔مناظر قدرت میں صفائی فطری طور پر موجود ہے ۔صفائی کا حسن و جمال سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو پاک،صاف ہے وہی حسین و جمیل بھی ہے۔صاف ہوا صاف پانی اور صاف زمین انسانی تہذیب کی بنیادی ضرورت ہے اور صدیوں سے اس کے لئے جد وجہد ہوتی رہی ہے ۔انسان ابتداء ہی سے اس کی تلاش و جستجو میں سرگرداں رہا اور ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر اسی تلاش و جستجو کا نتیجہ ہے۔دنیا کی تمام بستیوں اور آبادیوں نے وہیں فروغ پایا ہے جہاں یہ سہولتیں وافر مقدار میں موجود تھیں ۔ان میں سے کسی ایک کی کمی یا فقدان کی صورت میں بستیاں یا تو تباہ و برباد ہوگئیں یا دوسری جگہ منتقل ہو گئیں ۔

ہندوستانی تہذیب و تمدن میں میں بھی چیزوں کے خالص ہونے اور پاک صاف ہونے کو خاصی اہمیت حاصل رہی ہے ، حقیقت میں خالص ہونے اور پاکیزہ ہونے کا معاملہ صفائی سے مربوط ہے ہندوستانی تہذیب و تمدن میں داتی و نجی صفائی پر خاص توجہ دی گئی ہے ۔روایتی قسم کے ہندوستانی باورچی خانوں میں غسل کے بعد ہی داخلے اور کھانا بنانے کی اجازت تھی روایتی انداز میں عوامی اجتماعات میں کھانا بنانے والوں کو مہاراج کہا جاتا تھا اور ان سے یہ توقع رہتی تھی کہ وہ غسل کرنے اور صاف ستھرا لباس پہننے کے بعد ہی کھانا بنائیں گے کیوں کہ صفائی ستھرائی کا مسئلہ بہت کافی حد تک انسانی صحت و تندرستی کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ۔ 

صحت مند اور تندرست رہنا انسان کا پیدائشی حق ہے اور صحت و تندرستی بیماریوں سے نجات کی صورت میں ہی ممکن ہے ہے اور بہت سی بیماریوں سے ہم ذاتی اور نجی قسم کی صفائی ستھرائی کی بنیاد پر نہ صرف محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ حسین و جمیل اور قوی و توانا بھی بنے رہ سکتے ہیں ۔متوازن غذا، پابندئ وقت،پاکیزگی ،صفائی اور قوانین صحت کی پابندی کا لحاظ رکھ کر ہی انسان صحت مند و تندرست رہ سکتا ہے۔ صحت مند انسان کے چہرے پر تازگی اور فطری آب و تاب نظر آتی ہے یہ آب و تاب تندرست و صحت مند جسم کا فطری رنگ ہے ۔یہ فطری آب و تاب اسی انسان میں نظر آتی ہے جو صفائی ، وقت کی پابندی ، کسرت اور ورزش کو اپنی زندگی کا معمول قرار دے ۔بڑھتی عمر کے باوجود بھی انسان صحت مند ، توانا اور جوان رہ سکتا ہے ۔ بڑھتی اور ڈھلتی عمر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جوانی رخصت ہوگئی ۔انسان اعتدال، توازن ، میانہ روی، صفائی، ورزش وغیرہ کی پابندی کے ذریعے اپنی صحت و تندرستی کو قائم و دائم رکھ سکتا ہے اسی لئے موجودہ ترقی یافتہ دور میں ہندوستانی عوام انفرادی صفائی کے معاملے میں انتہائی بیدار ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں ہم انتہائی بے حس اور غیر ذمہ دار نظر آتے ہیں اسی لئے سماج اور عوام سے مربوط مقامات پر ہمیں غلاظت و گندگی کے بیشمار انبار دکھائی دیتے ہیں ۔عوام جہاں تہاں تھوکتے اور بول و براز کرتے دکھائی دیتے ہیں اس سے نہ صرف عوام بیمار ہوتے ہیں بلکہ صحت عامہ سے متعلق رفاہی امورو خدمات بھی متاثر ہوتی ہیں۔

خداوند عالم نے اس کائنات رنگ و بو میں انسان کے لئے مال و دولت، زرو جواہر، لعل و زمرد، طاقت و قوت جیسی انواع و اقسام کی بیش قیمت نعمتیں پیدا کی ہیں ۔جن کی احتیاج ہمہ وقت انسان کو رہتی ہے اور انسان انہیں کی فراہمی و حصولیابی کی جد و جہد میں مصروف رہتا ہے ۔انسان کی سب سے بڑی تمنا،آرزو، خواہش یہ ہوتی ہے کہ کائنات ارضی کی جملہ نعمتیں اس کی دسترس میں ہوں اور وہ عیش و عشرت سے بھرپورزندگی بسر کرے ،مگر انواع و اقسام کی یہ نعمتیں انسان کو اسی وقت حاصل ہوسکتی ہیں اور ان سے استفادہ اسی صورت میں حاصل کرسکتا ہے جب وہ صحتمند،تندرست اور توانا ہو،اگر انسان تندرست اور توانا نہ ہو تو مال و دولت، زرو جواہر ،سونا چاندی، عزت و شہرت ،حکومت و اقتدار اور عیش و آرام جیسی تمام اشیاء بے سود و ازکاررفتہ ہوجاتی ہیں ۔کائنات ہست و بود کی تمام نعمتیں مل کر بھی اسے حقیقی و واقعی فرحت و انبساط فراہم نہیں کرسکتیں ۔ حقیقت میں صحت و تندرستی ایک ایسی نعمت ہے جو تمام نعمتوں کا سرچشمہ ہے اسی لئے یہ کہنا درست ہے کہ جہاں تندرستی ہے وہاں کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی سب کچھ ہے اور جہاں صحت و تندرستی نہیں ہے وہاں دنیا کی تمام نعمتیں موجود ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہے۔

جس انسان کی صحت خراب ہے اس کے لئے دنیا کی لطیف سے لطیف تر نعمت بھی بے کار و بے سود ہے وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مردوں سے بدتر ہے وہ دوسروں کو لطف زندگی اٹھاتے ہوئے تو دیکھتا ہے مگر خود اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،یہ صورت حال انتہائی خطرناک ہے ۔بیماری اندر ہی اندر انسان کو دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کردیتی ہے نتیجہ یہ کہ اس کی زندگی بے چینیوں میں گزرتی ہے نہ دن کو چین نہ رات کو آرام ،نہ کھانے سے مطلب ،نہ پینے سے، بستر پہ تڑپ تڑپ کے کروٹ بدلنا اور کروٹ بدل بدل کر حسرت سے دوسروں کو دیکھتے رہنا ہی اس کا مقدر بن جاتا ہے جب کہ تندرست شخص اس کے برعکس ہر وقت خوش و خرم رہتا ہے ہر کام جی لگا کر کرتا ہے ، نہ کسی کا غم، نہ کوئی فکر، مستی کی نیند سوتا ہے ،انگڑائی لیتا ہوا بیدار ہوتا ہے ۔خوشی سے جھومتا ،گاتا، اچھلتا ، کودتا دن اپنے کاموں میں بسر کرتا ہے اور خدا کا شکر و احسان ادا کرتے ہوئے عیش و آرام کی زندگی بسر کرتا ہے ۔

انسان کتنا ہی صحت مند، تندرست و توانا کیوں نہ ہو اسے اس صحت و تندرستی کو قائم رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیت کی ضرورت ہے ۔ہمارے بزرگ اکثر کہتے ہیں کہ کثافت و گندگی ہزار بیماریوں کا گھر ہے اور طہارت و نزافت،پاکیزگی و صفائی ہزار دواؤں کی ایک دوا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ بہت سی بیماریاں صرف اور صرف غلاظت و گندگی کی بنا ء پر انسان کو لاحق ہوتی ہیں اور نہ صرف ایک فرد بشر کو لاحق ہوتی ہیں بلکہ اکثر وبائی صورت بھی اختیار کرلیتی ہیں ۔ان بیماریوں سے انسان کی تخلیقی صلاحیتوں پر بھی برااثر پڑتا ہے اور وسیع پیمانے پر ملک کی معاشی ترقی کی رفتار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ،جو سرمایہ اور توانائی ملک اور عوام کی خوشحالی اور ان کی فلاح و بہبود کے کام آسکتا تھا وہ بیماری اور دیگر مسائل و مشکلات کا حل نکالنے پر خرچ ہوجاتا ہے نتیجے میں ترقی کی رفتار سست ہوجاتی ہے، منصوبے تعطل کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ہمارے ملک میں کروڑوں بچے غلاظت و گندگی کی بناء پر بیماری کا شکار ہوکر دم توڑ دیتے ہیں یہ نونہال کثیف لمس، گندے پانی یا خراب آب و ہوا کے سبب بیمار ہوتے ہیں ان سے تحفظ کا بہترین ذریعہ جسم کی صفائی ، غذا کی پاکیزگی و صفائی ، مکان کی صفائی ، علاقے ،محلے اور بستی میں صفائی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی صفائی کا خیال رکھنا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ صفائی و پاکیزگی کا خیال رکھتے ہیں وہ بیمار نہیں پڑتے ۔پاکیزگی و صفائی میں کچھ خرچ نہیں ہوتا بس تھوڑی سی محنت، توجہ اور وقت درکار ہے روز نہایا جائے، برتنوں کو سلیقے سے دھویا جائے ، کھانے پینے کے سامان کو قرینے سے ڈھک کے رکھاجائے ،گھر میں اور گھر کے آس پاس کوڑا کرکٹ پڑا نہ رہنے دیا جائے ۔سڑی گلی اشیاء ، غلاظت اور کوڑا کرکٹ شاہراہ عام پر نہ پھینکی جائے اسے معینہ جگہ پر ہی پھینکا جائے تو صفائی کا حق ادا ہوجائے گا اور ہمارا علاقہ صاف ستھرا نظر آئے گا ۔

حالیہ دنوں میں صحت و صفائی کے مسئلے کو عالمی سطح پر بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔عالمی ادارۂ صحت یونی سیف اور فروغ اقوام متحدہ سے متعلق تنظیموں نے اس مسئلہ پر خصوصی توجہ دی ہے اور زبردست اقدامات بھی کئے ہیں ۔عرض کیا جاچکا کہ ہندوستانی سماج میں ذاتی اور نجی صفائی کا معیار کافی بلند ہے مگر اجتماعی صفائی کے معاملے میں ہندوستانی سماج تمام اقوام عالم میں شاید سب سے پسماندہ ہے ۔ہم اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھنے میں جی جان لگا دیتے ہیں مگر عین گھر کے سامنے کی جگہ کو کوڑے دان بنا دیتے ہیں ۔اگر آپ مشاہدہ کریں تو ایسے بیشمار عالی شان مکان آپ کو دیکھنے کو ملیں گے جن کے اطراف میں گندہ پانی جمع ہے یا سڑک ٹوٹی پھوٹی ہے یا غلاظت و گندگی کا انبار لگا ہوا ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے شہروں اور قریوں کا بھی یہی حال ہے ۔ہمارے شہروں کے اندورونی علاقے تو شاید نگر پالیکا اور نگر پریشد کی مہربانی کے سبب صاف ستھرے مل جائیں مگر شہروں میں داخلے والے علاقے عموما گندے ہی ہوتے ہیں اکثر شہروں کے بیرونی اطراف میں بڑے بڑے کوڑے دان بنا دئے جاتے ہیں ۔باہر سے آنے والے مہمان کو شہر میں داخل ہوتے وقت سب سے پہلے انہی سے واسطہ پڑتا ہے ۔یہ کوڑے دان عموما شاہ راہ عام کے نزدیک ہوتے ہیں ۔اجتماعی صفائی کے معاملے میں ہمیں عوامی زاویۂ فکرمیں تبدیلی لانے کے لئے جد و جہد کرنی ہوگی ۔عوام کو اس کے لئے آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ نہ صرف خود اپنے آس پاس کی صفائی پر توجہ دیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کے لئے آمادہ کریں ۔ہمیں عوام کو یہ سمجھانا ہوگا کہ جتنی صاف صفائی گھر کے اندر ضروری ہے اتنی ہی گھر کے باہر بھی ضروری ہے ۔

شہروں کے مقابلے قصبوں اورقریوں میں صفائی کے بارے میں عوام الناس کی فکر میں زبردست انقلاب لانے کی ضرورت ہے ۔قریوں کی غلاظت و گندگی کا تعلق غریبی سے زیادہ ، لوگوں کی منفی سوچ سے ہے ۔قریوں میں رہنے والے عوام کو گھروں میں بیت الخلا کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی، اس فکر کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔دیہاتی عوام نجی اور ذاتی صفائی پر بے حد توجہ دیتے ہیں اور اسی بناء پر و ہ حوائج ضروریہ کے لئے بستی سے دور جاتے ہیں ان کا نقطۂ نظر ہے کہ بول و براز وغیرہ سے گندگی پھیلتی ہے اس اسے آبادی سے دور ہونا چاہیئے ۔قریوں میں بنیادی سہولیات کی بہت کمی ہے لہٰذا سب سے پہلے وہاں صفائی سے متعلق بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور دیہاتی عوام کے دل و دماغ میں صفائی سے متعلق جو اوہام بسے ہیں ان کو دور کرنے کے لئے زبردست مہم چلائی جائے تب ہی قریوں میں صاف صفائی کے امکانات پیدا ہوں گے ۔

قصبوں اور قریوں کے مقابلے شہروں میں زیادہ کوڑا کرکٹ پیدا ہوتا ہے ۔صارفیت پر مبنی تہذیب کا ایک نتیجہ اضافی کچرا بھی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہروں میں ضروریات زندگی کی تقریبا تمام اشیاء باہر سے آتی ہیں اور عموما وہ خوبصورت ڈبوں، پیکٹس یا تھیلیوں میں ملتی ہیں جنہیں ہم استعمال کے بعد ادھر ادھر پھینک دیتے ہیں نتیجے میں غیر ضروری گندگی پھیلتی ہے ہمیں اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے اپنے ضروری امور کو انجام دیتے ہوئے انتہائی غور و فکر سے کام لینا چاہیئے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم گندگی پھیلارہے ہیں ۔کچھ لوگ گندگی اور غریبی میں سیدھا رشتہ بتاتے ہیں لیکن غور و فکر کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان کو ئی سیدھا تعلق نہیں ہے۔حقیقت میں صفائی یا گندگی کا تعلق انسان کی عادت اور اس کی فکر سے ہے۔یہ بات بھی سو فی صدی درست نہیں کہ سرمایہ دار طبقہ صفائی پسند ہوتا ہے اور غریب طبقہ غلاظت پسند ۔ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ اکثر مہنگی کاروں میں سفر کرنے والے خالی بوتلیں ڈبے اور پلاسٹک کے خالی تھیلے شاہ راہ عام پر پھینک کر ماحول کو پر اگندہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ زمین اور آب و ہوا کے پاک صاف رہنے سے ہی انسانی زندگی میں امن و سکون اور خوش حالی پیدا ہوگی اور ملک ترقی کرے گا ۔ اگر ماحولیاتی نظام خراب ہوگا تو لازمی طور پر عوام بیمار اور پریشان ہوں گے۔

بلدیاتی نظام ہندوستانی معیشت کے فروغ کی علامت ہے ملک میں دنوں دن گاؤں قصبوں میں، قصبے شہروں میں اور شہر صنعتی اور میٹرو پولیٹن شہروں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں ۔بڑھتی آبادی اور محدود وسائل کی بناء پر شہروں کی بنیادی سہولتوں میں نقص واقع ہو رہا ہے ۔شہروں میں سلم آبادیوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ان آبادیوں میں نہ تو حوائج ضروریہ سے فراغت کے لئے بنیادی سہولتیں ہیں نہ ہی پینے کے لائق صاف پانی۔ صاف صفائی تو دور کی بات ہے ۔ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں ایسی آبادیاں ایک نہایت سنگین مسئلہ ہیں ۔حقیقت میں مسئلہ یہ آبادیاں یا ان میں رہنے والے افراد نہیں ہیں بلکہ ان کو بنیادی سہولیات فراہم کرانا مسئلہ ہے ان علاقوں میں صاف پانی اور بیت الخلا کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے سبب یہ بستیاں قرب و جوار کے علاقوں کو بھی گندہ و غلیظ بناتی ہیں نتیجہ یہ کہ اب یہ مانا جانے لگا ہے کہ شہر ہے تو گندگی و غلاظت تو ہوگی ہی ، غیر منظم فروغ نے بھی شہروں کو گندہ بنانے میں تعاون دیا ہے عموما شہروں کی شکل و صورت اس کے نقشے و خاکے طے شدہ ہوتے ہیں اور یہ معین آبادی کے اعتبار سے بسائے جاتے ہیں ۔مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب عوام گاؤں سے ہجرت کر کے شہروں میں آتے ہیں اور وہ غیر فطری انداز میں بسنا شروع ہوتے ہیں ۔

ہمارے ملک کے سبھی قدیم شہر ندیوں کے کنارے آباد ہیں بعد میں صنعتی شہر بھی انہی ندیوں کے کنارے آباد ہوئے ان صنعتی شہروں میں اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے بیرون شہر کے عوام کثرت سے آتے ہیں ۔نہانے کے لئے ندیوں اور گھاٹوں کا استعمال ہماری قدیم تہذیب کا حصہ ہے مگر ہم ندیوں کو انتہائی اہمیت دینے کے باوجود دنوں دن گندہ کرتے چلے جارہے ہیں ان کو صاف ستھرا رکھنے کا کوئی انتظام ہم اپنی طرف سے نہیں کرتے۔ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ندیاں صرف ہماری جاگیر نہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی ہیں اور اسی لئے اس کی صاف صفائی کاکام سرکار اور سماج کے بھروسے چھوڑ دیتے ہیں۔

سرکار کا ماننا ہے کہ صفائی بے حد ضروری ہے اور اسی لئے ہندوستان کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے سرکار مسلسل مہم چلاتی رہی ہے ۔موجودہ سرکار نے بھی2؍ اکتوبر 2009 تک یعنی مہاتما گاندھی کی ایک سو پچاسویں یوم پیدائش تک ہندوستان کو صاف ستھرا بنانے کا عہد کیا ہے ۔ایک تخمینے کے مطابق شہروں میں ایک کروڑ بیس لاکھ مکانوں میں بول و براز کی سہولت نہیں ہے غلاظت و گندگی کا انداز ہ اسی بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ گنگا کو صاف کرنے میں ۱۸ برس کا عرصہ درکار ہوگا یہ وہ عرصہ ہے جو حکومت نے عدالت عالیہ کو بتایا ہے ۔بجٹ میں گنگا کی صفائی کے لئے دوہزار سینتیس کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں اس سے قبل بھی گنگا کی صفائی کے نام پر اربوں ڑوپئے خرچ ہو چکے ہیں لیکن اس کے امید افزاء نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں اس کا سبب صرف یہی ہے کہ گنگا کو صاف کرنے میں عوام کا تعاون نہیں ملا اس کے علاوہ جمنا ،شپرا، نرمدا، گوداوری، کرشنا،برہم پترا اور دیگر ندیوں کو صاف کرنے اور ان کے گھاٹوں کو خوبصورت بنانے کے کچھ سرکاری منصوبے ہیں اور کچھ عوام کے مطالبے ہیں ۔

ہرسال کروڑوں غیر ملکی سیاح ہندوستان کے تاریخی مقامات دیکھنے آتے ہیں عموما یہ سیاح بہت سی اچھی یادوں کے ہمراہ ہندوستان کی گندگی کی تصویریں بھی لے جاتے ہیں ۔تاریخی مقامات کو گندہ کرنا عام بات ہے دیواروں پر نام لکھنا تو ہر بھارتیہ اپنی شان سمجھتا ہے ان تاریخی مقامات کی صاف صفائی پر توجہ دے کر ہم آسانی سے غیر ممالک میں اپنی شبیہ بہتر بناسکتے ہیں لیکن یہ صرف سرکار کے سہارے ممکن نہیں ،اس کے لئے سرکار سے زیادہ عوام کو اپنی عادتوں پر توجہ دینی ہوگی اور اپنی بری عادتیں بدلنا ہوں گی اس سے نہ صرف ہماری شبیہ دیگر ممالک میں بہتر ہوگی بلکہ ہمیں بہترین آب و ہوا بھی فراہم ہو گی جو ہماری صحت و تندرستی کے لئے انتہائی ضروری و لازمی عنصر ہے ۔

صحت و تندرستی کے لئے اس کے علاوہ جن چیزوں کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ غذا ہے کھانے پینے میں تازگی و صفائی ضروری ہے۔ گندہ پانی پینے ،سڑی گلی چیزیں کھانے سے ہمیشہ خرابی کا خطرہ رہتا ہے ۔آب وغذا کی خرابی سے ہماری صحت و تندرستی بھی خراب ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جو بھی نعمت پیدا کی ہے اس سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے کچھ اصول و ضابطے بھی بنائے ہیں اگر ہم ان اصولوں اور ضابطوں کا خیال رکھتے ہوئے ان نعمتوں کا استعمال کریں گے تو وہ ہمارے لئے مفید ثابت ہوں گی اور اگر لاپرواہی برتتے ہوئے ان کا استعمال کریں گے یا ان کے استعمال میں افراط و تفریط سے کام لیں گے تو اس کا نقصان بھی ہمیں کو بھگتنا ہوگا اور یہ نقصان کتنا شیدید ہوگا اس کا اندازہ لگانا قبل از وقت ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔

غذا کے علاوہ تندرستی کے لئے تازہ ہوا کی بھی سخت ضرورت ہے جو ہوا سانس کے ذریعے ہمارے بدن میں داخل ہوتی ہے اس سے خون صاف ہوتا ہے اور جب ہم سانس باہر پھینکتے ہیں تو گندی ہوا باہر نکلتی ہے اس لئے تازہ ہوا میں سانس لینا چاہیئے اور منھ ڈھک کر کبھی نہیں سونا چاہیئے ۔ایسی صورت میں دوبارا گندی ہوا ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہے اور وہ ہمارے پھیپڑوں کو خراب و متأثر کرتی ہے۔

تندرستی و صحت کو قائم و دائم رکھنے کے لئے کسرت و ورزش بھی ضروری ہے اس سے بدن مضبوط اور تندرست رہتا ہے بھوک کھل کر لگتی ہے ۔ نظام ہاضمہ درست رہتا ہے پھر بھی تندرستی کے ساتھ بیماری لگی رہتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے دن کے ساتھ رات ،مگر اس سے خوف زدہ ہونا یاڈرنا بزدلوں کا کام ہے ۔احتیاط برتنا، خدا پر بھروسہ کرنا دانش وروں اور عقل مندوں کاکام ہے اور اسی سے صحت و تندرستی کو فروغ ملتا ہے ۔

انہی تمام امور کے پیش نظر2؍ اکتوبر 2014کو بھارت سرکار کی جانب سے ’سووچھ بھارت ابھیان‘ کی شمع روشن کی گئی ہے ۔اس مہم کو ہم سب کومل جل کر کامیاب بنانا ہے اور اپنی سطح پر شروعات کرکے اپنے آس پاس گلیوں ،سڑکوں، محلوں، گاؤں، شہروں اور اپنے دفتروں ،کالجوں اور فیکٹریوں سے گندگی کو دور کرنا ہے اور زیادہ سے زیادہ عوام میں اجتماعی صفائی کا شعور پیدا کرنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جب اس مہم کا آغاز شاندار ہوا ہے تو اس کا اختتام بھی اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا ہم نے جنگ آزادی میں کوئی قربانی نہیں دی لیکن اگر آج ہم اپنے جیتے جی اس مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں تو یہ ہم سب کی مادر وطن کے لئے ایک یادگار قربانی ہی تسلیم کی جائے گی ۔

 

(م ن۔ ع ن۔26-08-2016)

UF-4434