Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
28-September-2016 15:26 IST
روح ، صفائی اور سوچھ بھارت !

سوچھ بھارت وہ سب سے اہم مثال ہے ، جو بھارت دنیا کے سامنے پیش کرسکتا ہے


M.Venkaiah Naidu

- ایم۔ وینکیا نائیڈو

مہاراشٹر کے ضلع واشم کے تحت سیکھیدا گاﺅں کی سنگیتا اہوالے نے بیت الخلاء کی تعمیر  کیلئے اپنا منگل سوتر فروخت کردیا۔ چھتیس گڑھ میں ضلع دھنتاری کے موضع کوٹا بھرّی کی 104سالہ خاتون کنور بائی نے بیت الخلاء کی تعمیر  کیلئے اپنی بکریاں فروخت کر ڈالیں ۔ کولا راس بلاک کے گوپال پور گاﺅں کی آدی باسی خاتون پرینکا اپنے والدین کے گھر اس لئے لوٹ آئیں کہ ان کے سسرال میں بیت الخلاءنہیں تھا۔ آندھر پردیش کے تحت ضلع گنٹور میں ایک مسلم خاتون نے اپنی نئی نویلی بہو کو تحفے میں ایک نیا بیت الخلاء پیش کیا ۔  ایسی متعدد رپورٹیں موجود ہیں ، جن میں بتایا گیا ہے کہ لڑکیوں نے بیت الخلاء سے  عاری  گھروں میں بیاہ کر جانے سے ہی انکار کردیا۔ ان تمام معاملات میں  ، خواتین اپنی عزت نفس کے تحفظ کے لئے آگے آ رہی ہیں ۔ اسکول جانےو الی لڑکی لوانیا نے بھوک ہڑتال کر دی ، یہاں تک کہ کرناٹک میں واقع اس کے گاؤں ہالینا ہلی میں 80  کنبوں کو  مجبور ہوکر اپنے گھروں میں بیت الخلا تعمیر کرانے  پڑے ۔ سووچھ بھارت  بنانے کے لئے تبدیلی کی جو لہر جاری  ہے ، اس کی یہ محض معدود چند جھلکیاں ہیں ۔

سووچھ بھارت مشن کا آغاز  ، وزیر اعظم نریندر مودی نے 2  اکتوبر ، 2014  کو کیا تھا ۔ یہ اُن سرکردہ پہل قدمیوں میں سے ایک قدم ہے، جو گذشتہ دو برسوں کے دوران اٹھائے گئے ہیں ۔ یقیناً  ایک صاف ستھرا بھارت بنانے کے لئے یہ طریقہ کچھ نیا  نہیں ہے   ۔ اس سے پہلے بھی کُلّی صفائی ستھرائی مشن اور نرمل بھارت ابھیان جیسی مماثل کوششیں ہو چکی ہیں مگر اس مرتبہ  فرق یہ ہے کہ ارادے اور نفاذ میں بھرپور عزم بھی شامل ہے ۔ اب توجہ ’ برتاؤ میں تبدیلی ‘ لانے پر مرکوز ہے ، جو بیت الخلاؤں کو استعمال میں لانے کی بنیادی شرط ہے ۔  بیت الخلاؤں کی تعمیر کرنا آسان ہے ، مگر اس سے بھی چنوتی بھرا کام یہ ہے کہ لوگوں کو اس کے استعمال کی ترغیب دی جا سکے ۔

یہ بات تعجب خیز ہے کہ مہاتما گاندھی نے ٹھیک سو برس پہلے وارانسی میں بنارس ہندو یونیورسٹی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ملک میں  صفائی ستھرائی کی نہ گفتہ بہ حالت کے تئیں اپنی تشویش ظاہر کی تھی ۔ مشہور و معروف کاشی وشو ناتھ مندر تک جانے والی گلیوں  میں انہیں جو کچھ نظر آیا ، اُسے دیکھ کر وہ ششدر رہ گئے تھے ۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ صفائی ستھرائی اتنی ہی اہم ہے ، جتنی کہ سیاسی آزادی ۔ بھارت  نے 69 سال پہلے نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی حاصل کی تھی تاہم کھلے میں غلاظت اور گندگی کی لعنت سے آج بھی  آزادی نہیں حاصل کر سکا ہے  ۔  اسی لئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ملک کو 2019 تک اس لعنت سے نجات دلانے کے لئے ایک مشن کا آغاز کیا ۔

صدیوں سے ، بھارتی ثقافت اور روایات نے ’ روح کی پاکیزگی ‘ پر زور دیا ہے ۔ انفرادی نجات کے ایک ذریعے کے طور پر روح کی پاکیزگی ، انداز فکر اور فطرت کے ساتھ تال میل بناکر رہنے سمیت تمام اعمال پر احاطہ کر تی ہے ۔ ہر طرف کوڑے کرکٹ کا ڈھیر ، کچرے کو کھلے آسمان کے نیچے پھینکنا ، نہروں اور دریاؤں کو گندا کرنا  ، پھنسی ہوئی بند نالیاں اور نالے ، بڑھتی ہوئی آبی اور فضائی کثافت ، پیڑوں اور جنگلوں کی کٹائی ، اُس ’ پاکیزہ اندازۂ حیات ‘ سے ہم آہنگ نہیں ہے ، جس کا تصور ’ روح کی پاکیزگی ‘ میں مضمر ہے ۔

سووچھ بھارت مشن کے تحت روح اور فطرت کے مابین عوام کے  انداز فکر اور  اعمال کو از سر نو منظم کرکے فطرت سے ہم آہنگ کرنے کا مقصد کار فرما  ہے ۔ یہ مشن نفسیاتی ، سماجی ۔ اقتصادی زاویوں کا حامل ہے ۔ یہ مشن برتاؤ جاتی تبدیلی اور اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے شمولیت پر مبنی ترقی سے بھی ہم آہنگ ہے ۔

سووچھ بھارت کے نصب العین کو حاصل کرنے کے لئے  کھلے میں رفع حاجت اور ٹھوس فضلہ اور رقیق کچرے کا انتظام دو اہم عناصر ہیں ، جہاں اول الذکر دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں یکساں طور پر تشویش کا باعث ہے ، موخر الذکر شہری علاقوں میں زیادہ تشویش ناک ہے   ۔ صحت پر  مرتب ہونے والے سنجیدہ برعکس اثرات  ، خصوصاً  خستہ حال صفائی ستھرائی کے انتظام کے نتیجے میں  لا حق ہونے والے امراض کی وجہ سے نادار طبقے پر پڑنےو الے اقتصادی بوجھ  کے مد نظر کھلے میں رفع حاجت کے طریقے سے مبرا بھارت  بشمول صاف ستھرے شہر ،  وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

معاشرے میں عوام کے برتاؤ اور رجحان میں ، جو تبدیلی لائی جانی ہے ، اُس میں بیت الخلاؤں کے استعمال کی ترغیب ، کھلے میں کوڑا کچرا نہ پھینکنے کی ترغیب ، ٹھوس فضلے کو شروع سے ہی علیحدہ کرنے کا طریقہ  ، کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے طریقے کو عادت بنانے ، رہنے اور کام کاج کی جگہ اور عوامی مقامات کو صاف ستھرا رکھنے ، عوامی صفائی ستھرائی ، اثاثوں کے انتظام میں سماج کی شراکت داری ، پارکوں وغیرہ کا رکھ رکھاؤ ، یہ تمام چیزیں صفائی ستھرائی کی  اصل روح ہیں ۔ نجی اور عوامی دونوں مقامات صاف ستھرے  ہوں اور ہر شہری اس کے لئے فکر مند ہو ،  اس طرح کی بیداری جاری سووچھ بھارت کی کوششوں کی کامیابی کی کلید ہے ۔

کھلے میں رفع حاجت کا طریقہ نہ صرف یہ کہ عزت نفس کے منافی ہے ، بلکہ  غیر مساوی   ترقی کا بین ثبوت بھی ہے ۔  مجبوری کی وجہ سے یہ ایک عادت بن چکی ہے اور اگر موقع حاصل ہو تو کوئی بھی شخص کھلی جگہ میں رفع حاجت کے لئے جانا پسند نہیں کرے گا ۔ اس عمل کا کوئی بھی جواز نہیں پیش کیا جا سکتا ۔ شہری علاقوں میں یہ  طریقہ اور زیادہ شرمناک ہے ۔ 

یہ خبر حوصلہ افزا ہے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً 85000  گاؤں اور 141  شہر کھلے میں رفع حاجت کے طریقے سے مبرا ہو چکے ہیں ۔  سووچھ بھارت مشن کی شروعات کے بعد سے دیہی علاقوں میں دو کروڑ سے زیادہ بیت الخلااور شہری علاقوں میں 25 لاکھ سے زیادہ بیت الخلا تعمیر ہو چکے ہیں ۔ 

ابتدا میں سست روی سے چلنے کے بعد اب سووچھ بھارت مشن نے رفتار پکڑ لی ہے اور آئندہ تین برسوں کے دوران یہ رفتار بنائی رکھی جائے گی تاکہ ملک کو خراب صفائی ستھرائی   کے نتیجے میں  لاحق ہونے والے  خطرات سے محفوظ کیا جا سکے ۔  بھارت 2019  تک دنیا کے سامنے سب سے اہم مثال ، سووچھ بھارت کی شکل میں پیش کر سکتا ہے ۔

 سووچھ بھارت مشن کی دوسری سالگرہ کے سلسلے میں  عوام کے دلوں میں صفائی ستھرائی کے جذبے کو  جگانے  اور صاف ستھرے بھارت کے لئے ہمارے اپنے عہد کے اعادے کے لئے  ملک بھر میں بیداری مہمات اور سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں ۔ 

پہلے دن ہی وزیر اعظم نے مجھ سے کہا تھا کہ اس امر کو یقینی بنایا جانا چاہیئے کہ سووچھ مشن ایک ’ جن آندولن ‘ بنے ، نہ کہ صرف سرکاری پروگرام بن کر رہ جائے ۔ ہم نے اس سلسلے میں زبردست کوششیں کی ہیں اور عوام کے تمام تر طبقات سے رابطہ قائم کیا ہے اور اس عوامی مہم میں ان کی شرکت کی خواستگاری کی ہے اور  اہل وطن کو بھی اپنے ساتھ اس کام میں شامل کیا ہے ۔  گورنروں  ، وزرائے اعلیٰ ،  مختلف سطحوں پر عوام کے منتخب نمائندگان ، صنعتی اداروں ، مختلف طبقہ ہائے حیات کی معروف ہستیوں کو سووچھ بھارت کی اس جاری کوشش میں شامل کیا گیا ہے ۔

جہاں بھارت میں  روح کی پاکیزگی کی اقدار موجود ہوں  اور عوام اپنے ورثے کی چاندی کو بیت الخلابنانے کے لئے فروخت کر رہے ہوں اور صفائی ستھرائی کی تحریک عوامی نوعیت کی تحریک بن گئی ہو ، وہاں سووچھ بھارت اب کوئی دور کا خواب نہیں رہ جائے گا ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

* مصنف شہری ترقیات ، ہاؤسنگ  ، شہری انسداد غربت اور اطلاعات و نشریات کے وزیر ہیں ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

( م ن۔ ع ا  )      ( 28 – 09 – 2016 )

U. No. 5037