Print ReleasePrint
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
21-February-2017 12:26 IST
قومی صحت مشن

*مصنف: وی سری نواس

نئی دہلی،21۔فروری،قومی صحت  مشن بھارت کا صحت کے سیکٹر کا ایک اہم پروگرام ہے، جس کا مقصد ریاستی سرکاروں کو نرم فائنانس فراہم کر کے شہری اور دیہی صحت کے شعبوں میں نئی جان ڈالنا ہے۔ قومی صحت مشن میں چار عناصر شامل ہیں، جن میں قومی دیہی صحت مشن، قومی شہری دیہی مشن، سہ رخی حفظان صحت پروگرام یا ٹی سی پی  اور صحت اور طبی تعلیم کے لئے انسانی وسائل شامل ہیں۔

قومی صحت مشن افزائش نسل اور بچوں کی صحت کےعلاوہ صحت کی خدمات کو وسیع کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے، تاکہ متعدی اور غیر متعدی بیماریوں سے لڑا جا سکے اور ذیلی ضلع سطحوں پر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا سکے۔ قومی صحت مشن کو قومی دیہی صحت مشن اور قومی شہری صحت مشن کے بہتر نفاذ کے ذریعے تقویت ملتی ہے۔ قومی صحت مشن کو 18-2017کے بجٹ میں 26690کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں، جو حکومت ہند کے ذریعے چلائی جانے والی  سب سے بڑی اسکیموں  میں سے ایک ہے۔

قومی صحت مشن نے صحت اور خاندانی بہبود کے دو محکموں کو قومی سطح پر یکجا کیا ہے۔ ان دونوں کے یکجا ہونے سےبھارت کے دیہی صحت نظام میں نئی جان پڑی ہے، جس کی وجہ سے صحت کے سیکٹر میں پروگراموں کا نفاذ بہتر ہوا ہے۔ یہی ارتباط ریاستی سطحوں پر بھ نظر آتا ہے۔  اس کے علاوہ قومی صحت مشن نے ریاستی فائنانس کے محکموں کے دائرۂ اختیار سے باہر ریاستی صحت سوسائٹیوں کے لئے مرکز سے فنڈ کی فراہمی میں بھی ایک انقلاب پیدا کیاہے۔ ایک دوسری بڑی تبدیلی قومی صحت مشن کے دائرۂ کار میں بیماریوں کے کنٹرول کے مربوط پروگرام میں نظر آتی ہے۔

قومی صحت مشن نے بھارت میں صحت کے سیکٹر کے پروگراموں کے نفاذ میں کافی اختراعات متعارف کرائی ہیں۔ اِن میں لچکدار فنڈنگ، بھارتی عوامی صحت معیارات کے خلاف اداروں کی نگرانی، ریاستی سطح پر صلاحیت سازی ، پروگرام منیجمنٹ یونٹوں میں بندوبست کے ماہرین کے ذریعے ریاستی ضلع اور پنچایت سمیتی کی سطح پر صلاحیت میں اضافہ اور صحت اور خاندانی بہبود کے ریاستی اداروں کے ذریعے بروقت بھرتی اور انسانی وسائل کا آسان  بندوبست  ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اقدامات کا ڈیزائن اور اُن کی تیاری میں مدد کے لئے قومی صحت سسٹم ریسورس سینٹر (این ایچ ایس آر سی) کا قیام ایک اہم اختراع ہے۔ کچھ ریاستوں میں ریاستی صحت سسٹم ریسورس سنٹر بھی قائم کئے گئے ہیں۔

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت  سالانہ بنیاد پر ریاستی صحت سوسائٹیوں کے پروگرام نفاذ کے منصوبوں کو منظوری دیتی ہے، جس میں آر سی ایچ فلیکسی پول ، این آر ایچ ایم فلیکسی پول، متعدی بیماریوں کے لئے فلیکسی پول اورغیر متعدی بیماریوں کے لئے فلیکسی پول کے علاوہ بنیادی ڈھانچےکو مستحکم کرنے کے لئے مناسب فنڈ مختص کئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ٹریننگ پروگراموں اور صلاحیت سازی کے لئے بھی قابلِ قدر وسائل مختص کئے گئے ہیں۔ ریاستی صحت سوسائٹیوں کو اہم موضوعات کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے وسائل کو ضلع اسپتالوں ، کمیونٹی ہلتھ سینٹروں اور پرائمری ہیلتھ سینٹروں کو مختص کرنے کی بھی قابل قدر آزادی حاصل ہوتی ہے۔

قومی صحت مشن کا ترجیحی مرکز افزائش اور بچوں کی صحت خدمات پر ہے۔ جننی سرکشا یوجنا(جے ایس وائی) اور ایکریڈائٹیڈ سوشل ہیلتھ ایکٹی وِسٹ(آشا) پروگرام  کے کامیاب نفاذ کا رویوں پر بہت زیادہ اثر پڑا ہےاوراس کی وجہ سے بڑی تعداد میں حاملہ خواتین سرکاری صحت اداروں تک پہنچنے لگی ہیں۔ قومی دیہی صحت مشن  کے فلیکسی پول کے وسائل کو زچگی کے کیس میں تیزی سے اضافے سے پیداہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

سرکاری صحت اداروں میں حاملہ خواتین  اور ایمرجنسی کیس کے لئے ایمبولینس خدمات متعارف کرائی گئی ہیں۔ 108نمبرکی ایمبولینس خدمات کئی  ریاستوں میں بہت مقبول ہوئی ہیں۔

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت نے قومی صحت مشن کے تحت دو نئے پروگرام شروع کئے ہیں۔ ان میں ایک مشن اندردھنش ہے، جس میں صرف ایک سال کے اندر ٹیکہ کاری میں پانچ فیصد کی بہتری آئی ہے۔ دوسرا پروگرام کایا کلپ کا ہے، جو قومی صحت مشن کے تحت 2016میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد صفائی ستھرائی کے رویے کو فروغ دینا، کچرے کے مؤثر بندوبست اور عوامی صحت اداروں میں انفکشن کو کنٹرول کرنا شامل ہے۔ کایا کلپ کے تحت ایوارڈ کے لئے شروع کئے گئے مقابلوں میں بھی تمام ریاستوں میں صفائی ستھرائی کے معیار کو بہتر بنانے کےلئے کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

قومی صحت مشن حفظانِ صحت کے لئے ایک عوامی تحریک ہے۔ بھارت نے تقریباً دس لاکھ آشا ورکر تعینات کئے ہیں، جو ایک تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ آشا ورکر اسپتالوں میں زچگی، پیدائش سے پہلے اور پیدائش کے بعد بچوں کی دیکھ بھال اور نئی ماؤں کو ان کے گھروں پر ہی صلاح و مشورہ کرنا شامل ہے۔ قومی صحت مشن نے گاؤں کی صحت اور صفائی ستھرائی کی کمیٹیوں کے ذریعے عوام کو بااختیار بنایا ہے کہ وہ گاؤں کے لئے صحت منصوبے تیار کریں اور آشا ورکروں کی مدد سے ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ اب قومی شہری صحت مشن شروع ہونے کے بعد دیہی علاقوں کے علاوہ اب شہری جھگی جھوپٹری بستیوں میں بھی صحت پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

قومی صحت مشن صحت کے سیکٹر میں بھارت کے اہم پروگرام کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا مقصد سب کے لئے صحت  کے ویژن کو حقیقت میں تبدیل کرنا ہےاور اس سب کی کامیابی ایک صحت مند بھارت کے مستقبل میں پنہا ں ہے۔

*مصنف 1989بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں اور فی الحال نئی دلی کے ایمز اسپتال میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ہیں۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

م ن ۔و ا۔ ک ا