Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
11-October-2017 10:19 IST
دیہی ہندوستان کا بدلتا چہرہ

 

*وی سرینواس*

تیزی کے ساتھ زراعت کی ترقی اور زیادہ سے زیادہ دیہی روزگار فراہم کرنے میں تیزی سے پیش رفت، ہمیشہ ہی  ہندوستانی پالیسی سازوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے  ہندوستان کی  خود کفیل،  خود مختار گاؤں  جمہوریاؤں  کے طور پر   ملک کی تصویرکشی کی ہے۔ زمین، دیہی وجود اور زرعی ڈھانچہ ہندوستان کی ترقی کے سب سے اہم عناصر ہیں۔ زمین کی غیر مساوی تقسیم، کھیتی کے پچھڑے پن کے لئے ذمہ دار رہی ہے۔ دیہی ہندوستان  میں زمین  ہی آمدنی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ تھی اور اس چیز کو دیکھتے ہوئے دیہی آبادی کی خوشحالی کو یقینی بنانے کےلئے کھیتی کرنے کے ڈھانچے میں تبدیلی لازمی تھی۔ اسی لئے ہندوستان کی اسٹیٹ پالیسی میں زمین کی اصلاحات کے قوانین کو تشکیل دینے اور انہیں لاگو کرنے پر ریاستی سرکاروں پر توجہ دی گئی ان میں زمین کی  سیلنگ ایکٹ، کاشتکاری اور کرایہ داری ایکٹ لینڈ ریونیو ایکٹ وغیرہ شامل ہیں۔ غریبوں اور ضرورت مند کسانوں   کو زندگی گزارنے کےلئے فاضل کھیتی کرنے ،  زرعی ترقی کو فروغ دینے اور دیہی غربت کو دور کرنے کے لئے سرکاری زمینیں  تقسم  کی گئیں۔ ان پالیسیوں کا مقصد زرعی ترقی کو فروغ دینا اور  دیہی غربت کو دور کرنا شامل تھا۔

جولائی 1969 میں بینک کو قومیائے جانے کے بعد بینکنگ کی سرگرمیوں کو توسیع دینے  پر بڑے پیمانے پر توجہ دی گئی۔ سماجی بینکنگ پالیسی کے طور پر دیہی علاقوں میں بینکوں کی شاخوں کی تیزی سے توسیع ،  زراعت اور اس سے جڑی سرگرمیوں کے لئے بینک قرض کی توسیع ، ترجیحی بنیاد پر قرض دینے اور سود کی شرحیں شروع کی گئیں۔  دیہی  بینک کی برانچ کی توسیع کے سبب دیہی غربت میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے اور غیر زرعی طور پر ترقی ہونی  ہے۔ البتہ  وقت گزرنے کے ساتھ ہی ریاستوں میں ترقی کی سطح میں فرق محسوس ہونے لگا ہے۔

خوشحال اور تیزی سے ترقی کرنے والی  ریاستیں جہاں دیہی غربت  میں کمی لانے میں کامیاب رہی ہیں وہیں غریب ریاستوں میں ترقی کی شرح ناپائیدار رہی ہے۔ تیزی سے ترقی کرنے والی ریاستوں نے جہاں زمین کے پٹے کو سرمایہ کاری ، پیداوار اور ترقی کے لئے استعمال کرنے کے سلسلے میں قوانین تشکیل دیئے ہیں، وہیں غریب ریاستوں میں چھوٹے اور اوسط درجے کے کسانوں کی کھیتی سے دوری اور اس کے بعد ان کے بے زمین  کھیتی مزدور بننے میں انہیں بازار کی غیر یقینی صورتحال پر پوری طرح سے منحصر کردیا ہے۔ بارش پر منحصر کھیتی والے علاقوں میں بڑے پیمانے پر مزدوروں کی ہجرت دیکھی گئی ہے۔ خوشحال ریاستوں نے غریب ریاستوں کے مقابلے زیادہ سرمایہ کاری کی طرف زیادہ زور دیا ہے اور بہتر بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کو فروغ دیا ہے جس کے نتیجے میں ان ریاستوں میں فی کس آمدنی میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔

اس پس منظر میں ہندوستانی ریاستوں نے دیہی آبادی کے لئے سلسلے وار مختلف پروگراموں کا نفاذ  کیا ہے ان میں سحرا کی ترقی کا پروگرام، خشک سالی  سے متاثرہ علاقے کی ترقی کا پروگرام اور زرعی ترقی کا پروگرام شامل ہے۔ ان پروگراموں کو غیر مرکزیت حصہ داری ترقی ماڈل کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔ ان پروگراموں کا مقصد توسیع شدہ زرعی علاقے کی ترقی ، چیک  باندھوں کی تعمیر اور چراگاہوں کی تعمیر کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہے۔ کم بارش والے علاقوں میں دوسری فصل سے زرعی مزدوروں کے لئے زیادہ آمدنی اور کم ہجرت کے مقصد پر دھیان دیا گیا ہے۔

ریاستوں نےکئی بڑے سودمند پروگرام شروع کئے ہیں۔ جن کا مقصد آمدنی میں اضافہ، وسیع ترقی، رہنے کے لئے گھر اور روزگار پیدا کرنا شامل ہے۔ دیہی ترقیات کے محکمے نے بھی  بہت سی اسکیمیں نافذ کی ہیں جن میں نیشنل رو اربن مشن، پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی) ، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا، دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیا  یوجنا اور مہاتما گاندھی نیشنل رورل روزگار گارنٹی ایکٹ پروگرام شامل ہیں۔

منریگا کے کل ہند سطح پر نفاذ سے دیہی علاقوں میں روزگار اور آمدنی بڑھانے میں اہم نتیجے دیکھے گئے۔ نیشنل رو اربن مشن فروری 2016 میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ جھگی جھونپڑیوں کی ترقی کےلئے ایک نئی پہل کے   طور پر  شروع کیا گیا تھا تاکہ  دیہی لوگوں کو شہری زندگی کا تجربہ دلانے اور انہیں شہری سہولتوں سے  فائدہ دلایا جاسکے۔ دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیا یوجنا میں دیہی غریب کنبوں کے 15 سال سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس کا مقصد ان کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے اور دیہی نوجوانوں کی امنگوں کو پورا کرنا ہے۔

ہندوستانی کسان ہمیشہ سے ہی قرض کی مناسب شرحوں اور  ان کے وقت پر ملنے کے تئیں فکر مند رہے ہیں۔ اس سمت میں اٹھائے گئے اہم اقدامات کا مقصد مالی طور سے سب کو شامل کرنا تھا۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا ، مالی خدمات تک سب کی رسائی کو یقینی بنانے کے قومی مشن کو ظاہر کرتی ہے۔

جن دھن یوجنا نے محروم آبادی میں قرض کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے بینکروں کو ضروری اعتماد فراہم کیا ہے اور اس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں دیئے جانے والے قرض میں اہم اضافہ ظاہر ہوا ہے۔

ہندوستان جیسے وسیع ملک کو خوراک کی پیداوار تیزی سے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ 17۔2016 کے دوران خوراک کی اب تک کی سب سے زیادہ پیداوار  ہوئی اور یہ 273.38 ملین ٹن کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ یہ پچھلے پانچ سالوں کی اوسط پیداوار سے 6.37 فیصد زیادہ ہے اور 16۔2015 کے مقابلے  8.6 فیصد زیادہ ہے۔ مرکزی سرکار نے سال 2015  میں مٹی کے تجزیئے کے مقصد سے ملک کے سبھی کسانوں کو سوایل ہیلتھ کارڈ اسکیم (ایس ایچ سی) جاری کرنے کی اسکیم کا آغاز کیا۔ حکومت نے  ایک کامن ای۔ پلیٹ فارم کے ذریعہ ملک بھر کی تھوک 885 زرعی پروڈکشن مارکیٹنگ کمیٹیوں کو جوڑنے کےلئے نیشنل زرعی مارکیٹ (ای۔نیم) کا آغاز کیا۔ یہ پورٹل بہت سی ہندوستانی زبانوں میں دستیاب کرایا گیا  ہے جس سے کسانوں کو اہم جانکاری مل سکے گی۔

ریاستی سرکاریں سبھی طرح کی فصلوں میں جوکھم کو کور کرنے  اور بہتر سنچائی اسکیموں کو فروغ دینے کےلئے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا اور پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا کے نفاذ کے لئے تیزی سے کوشش کررہی ہیں۔ مرکزی سرکار کے کسانوں کو بااختیار بنانے اور گاؤں کی سطح پر بنیادی ڈھانچے میں سدھار سے متعلق پروگراموں نے غریبی کو کم کرنے اور صحت اور تعلیم سے متعلق  عندیوں میں اصلاح کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ زرعی آمدنی میں سدھار اور سبسڈی منتقلی میں شفافیت سے  21 ویں صدی کے ہندوستان کی تعمیر ہوگی۔

 

************

م ن۔ح ا۔ ن ا۔

(11-10-17)

U- 5090