Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
12-October-2017 12:57 IST
خصوصی فیچر: 16 اکتوبر عالمی یوم خوراک 2017

کاشتکاروں کو کاشتکاری سے وابستہ رکھنے کی چنوتی

کاشتکاری کے شعبے میں کشش پیدا کرنے کے لیے نئے منفعت بخش طور طریقے متعارف کرانے کی کوشش

 

پنڈورانگ ہیگڑے*

عالمی یوم خوراک (ڈبلیو ایف ڈی) ہر سال 16 اکتوبر کو 1945 میں فوڈ اینڈ اگریکلچرل آرگنائزیشن  یعنی خوراک اور زراعت کی تنظیم (ایف اے او) کے قیام کو یاد کرنے کے لیے منایا جاتاہے۔ یہ اقوام متحدہ کے ذریعہ منایا جانے والا سب سے اہم دن ہے کیونکہ دنیا بھر کے 150 سے زائد ممالک غذائی تحفظ سے متعلق عوامی بیداری پھیلانے اور سال 2030 تک مکمل طور سے بھوک کے خاتمے کے حصول کے لیے مختلف پروگرام منعقد کرتے ہیں۔

اس سال عالمی یوم خوراک کا موضوع ‘‘نقل مکانی کے مستقبل کو بدلیے ۔ غذائی تحفظ اور دیہی ترقیات میں سرمایہ کاری کیجیے’’ہے۔

خوراک اور زراعت کی تنظیم (ایف اے او) کا تخمینہ ہے کہ بھوک، افلاس اور غربت کے سبب تقریبا 763 ملین افراد اپنے ہی ملک کے اندر نقل مکانی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں آب وہوا کی تبدیلی کے سبب خراب موسم میں اضافہ ہونے کی وجہ سے کاشتکاروں کو بہتر ذریعہ معاش کے مواقع ڈھونڈنے کے لیے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ تقریبا ہندوستان کی ایک تہائی آبادی ،300 ملین سے زائد افراد مہاجر ہیں۔

ہندوستانی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق تقریبا 84 فیصد افراد اندرون ریاست نقل مکانی کرتے ہیں جب کہ تقریبا دو فیصد افراد بین ریاستی نقل مکانی کرتے  ہیں۔ ملک کے مشرقی خطوں اور شمال مشرقی علاقوں سے بہت بڑی تعداد میں لوگ کام اور بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں نقل مکانی کرچکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد جزوقتی اور موسمی مہاجر کی حیثیت  رکھتے ہیں۔ یہ لوگ تھوڑے دنوں تک اپنے گھر سے باہر کام کرتے ہیں اور پھراپنی متعلقہ اصلی ریاست میں اپنی ملکیت کی چھوٹی کاشت کاری کے لیے واپس چلے جاتے ہیں۔ نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کے مطابق جن کاشت کاروں کا انٹرویو لیا گیا۔ ان میں سے 45 فیصد کاشت کاروں نے کھیتی باڑی کو ترک کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے متعدد اسباب اور عوامل ہیں۔ بالخصوص فصلوں کی پیداواریت اور منافع کا  بتدریج کم ہونا ایک اہم سبب ہے۔ اس سے نوجوان نسل کو سخت مایوسی ہوتی ہے اور وہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو رہی ہے۔

خوراک اور زراعت کی تنظیم (ایف اے او) نے دیہی نوجوانوں کو اپنے وطن میں روکنے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے لیے کہا ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ نقل مکانی کی چنوتی سے نمٹنے کے لیے دیہی نوجوانوں کو مناسب ذریعہ معاش اور روزگار فراہم کیے جائیں۔ ڈبہ بند خوراک اور باغبانی کے کاروبار میں تجارت کے مواقع پیدا کرنا جو کہ غیر فصل پر مبنی شعبہ ہے، بہتر غذائی تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ دیہی معاشرے کی طویل مدتی وصولی پر مبنی پائیدار ترقی کی ملک میں فوری ضرورت ہے۔

کسانوں کے قومی کمیشن نے زرعی شعبے میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو راغب کرنے کے لیے اور انھیں مصروف رکھنے کے لیے کہا ہے۔ اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے ذریعہ 2007 میں وضع کیے گئے کسانوں کی قومی پالیسی میں مناسب امدادی اقدامات کے ذریعے کاشت کاری میں نوجوانوں کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ  زراعت اور متعلقہ ڈبہ بند خوراک کی صنعتوں میں انھیں وابستہ رکھا جاسکے۔ 2014 سے مرکز میں این ڈی اے قیادت والی حکومت نے اس بحران کو حل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں۔

مٹی صحت کارڈ، پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا، راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا جیسے تجرباتی پروگرام کچھ ایسی اسکیمیں ہیں جو کسان برادری کو تعاون اور امداد فراہم کرتی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک پروگرام کا مقصد اس بحران میں کمی لانے  کے لیے خواہ وہ آب وہوا کی تبدیلی ہو یا کم بارش کے سبب فصل کا خراب ہوجانا یا بالکل پیداوار نہ ہوناہو، حل مہیا کرنا ہے۔ حکومت نے ملک کی آزادی کی 75ویں سالگرہ 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنی کرنے کا حوصلہ افزا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کاشت کاری اور غیر زرعی شعبے میں کشش پیدا کرنے کے لیے منفعت بخش طور طریقے متعارف کرا رہی ہے۔

سب سے زیادہ بے مثال پہل آریا یعنی کاشت کاری سے نوجوانوں کووابستہ رکھنا اور انھیں کاشت کاری کی جانب راغب کرنا ہے۔ زرعی تحقیق سے متعلق ہندوستانی کونسل نے اس پہل کو شروع کیا ہے۔ اس کا مقصدفصلوں کی قدر وقیمت میں اضافے کے ذریعہ نیز پائیدار آمدنی مہیا کراکے دیہی علاقوں میں نوجوانوں کو کاشت کاری سے وابستہ رکھنا اور انھیں زراعت کی طرف راغب کرنا ہے۔ اسی طرح انھیں بازار کا رابطہ فراہم کرنا ہے تاکہ نوجوان نسل کو گاؤں کی طرف واپس لانے کے لیے اسے پرکشش بنایا جاسکے۔

اس پہل کو ہر ایک ریاست کے ایک ضلع میں کرشی وگیان کیندر کے ذریعہ 25 ریاستوں میں نافذ کیا جارہا ہے۔ اس کے ذریعہ کوشش ہے کہ کام کے ماڈل کو دکھایا جائے جو کہ اقتصادی سطح پر نوجوانوں کے لیے ممکن ہو اور جس میں انھیں راغب کرنے کی صلاحیت ہو۔

آریا کو لانچ کرتے ہوئے پروفیسر ایم سوامی ناتھن نے کہا کہ ‘‘جب تک کہ کاشت کاری کو فائدہ دینے والا اور پرکشش نہیں بنا دیا جاتا ہے اس شعبے سے نوجوانوں کو وابستہ رکھنا بیحد مشکل ہے’’ انھوں نے مزید کہا کہ ‘‘ایسے حالات میں جب موجودہ کسان بھی کاشت کاری سے دور بھاگ رہے ہیں۔ زراعت اور کاشت کاری کو منفعت بخش نہیں  بنا دیا جاتا ہے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس شعبے سے وابستہ رکھنا انتہائی مشکل امر ہے۔ جب تک کہ پیداواریت یا آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا ہے کاشت کاری نوجوانوں کے لیے پرکشش چیز نہیں ہوسکتی ہے’’۔

اسکل انڈیا پروگرام کے حصہ کے طور پر دیگر پہل ہے جو اگریکلچر اسکل کونسل آف انڈیا کو حمایت دے رہا ہے۔ اس کا اصل مقصد زرعی شعبے کی صلاحیت پیدا کرنا اور لیباریٹریوں اور کھیتوں کے درمیان خلیج کو پر کرنا ہے۔ اس عمل کو کاشت کاروں کے ہنروں کو جدید بنا کر، زرعی مزدوروں اور متعلقہ صنعتوں میں مصروف افراد کی جدید کاری کرکے زرعی سرگرمیوں میں امداد فراہم کرنا ہے۔

یہاں یہ امید کی جانا چاہیے کہ یہ اسکیمیں ایک بار پھر نوجوانوں کو کاشت کاری کی طرف راغب کریں گی۔ ورنہ ہم ایسے حالات تک پہنچ گئے ہیں کہ نوجوانوں کی اکثریت یہاں تک کہ کسان خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی کاشت کاری سے وابستہ نہیں رہنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس ایک کسان کی مشکل زندگی کا تجربہ  ہے۔ جہاں تمام محنت کے باوجود ایک مناسب آمدنی حاصل کرنے کی ان کی تمام ترکوششیں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔ خشک سالی اور قحط کے زمانے میں انھیں یا تو تھوڑی آمدنی ہوتی ہے یا مکمل نقصان ہوجاتا ہے اور وہ قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔

حکومت کے ذریعہ کئے گئے حالیہ اقدامات اور تکنیکی اختراعات سے کسانوں کو تکنیکی بحران کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ علاوہ ازیں انھیں صارفین کے ذریعہ مہیا کی جانے والی یقینی آمدنی کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سیاق میں 2016 میں مرکز کے ذریعہ شروع کیا گیا پہل ای این اے ایم (نیشنل اگریکلچر مارکیٹ) یعنی قومی زرعی بازار نہایت اہم ہے۔ یہ پورے ملک میں کام کرنے والا الیکٹرونک تجارتی پورٹل ہے جو کہ موجودہ اگریکلچرل پروڈیوس مارکیٹنگ کمیٹی (اے پی ایم سی) کی منڈیوں کی نیٹ ورکنگ کرتا ہے تاکہ زرعی اشیا کے لیے ایک یکساں قومی بازار بنایا جاسکے۔

ہمارے ملک کی 25 فیصد آبادی 18 سال سے 29 سال کے درمیان کی ہے۔ کاشت کاری کے شعبے کی طرف نوجوانوں کو راغب کرنے کے وسیع امکانات ہیں۔ کاشت کاری کے ذریعہ نوجوان نسل کو ایک موقع فراہم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہم وطنوں کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے غلہ پیدا کریں اور ملک میں نمایاں فرق لائیں۔ حکومت کو بھی ایسے کامیاب نوجوان کسانوں کی شناخت کرنی چاہیے اور کروڑوں افراد کے لیے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک مہیا کرانے کے عظیم مشن کے ساتھ نوجوانوں کو جوڑنے کے لئے میڈیا اور پالیسی امداد مہیا کرانی چاہیے۔

ان حالات کے تحت ہمیں متعدد حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان کسانوں کی قدرو منزلت بڑھے اور وہ کاشت کاری سے وابستہ رہیں۔ جے جوان جے کسان نعرہ کی طرح ہمیں ایسے نعرے بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے کہ کاشت کار بھی دھرتی ماں کے سپاہی ہیں جو ہماری مٹی کا تحفظ کرتے ہیں اور اپنے ہم وطنوں کو کھلاتے ہیں۔

*  مضمون نگار کرناٹک میں مقیم ایک آزاد صحافی اور کالم نگار ہیں۔ اس مضمون میں ظاہر کردہ افکار وخیالات ذاتی ہیں۔

U – 5152