Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
13-October-2017 13:03 IST
پریٹین پرو: ہندستان کی گوناگویت کی مزید تلاش کا ایک موقع

معمول کے ٹورسٹ  مقامات پر جانے کے بجائے  اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندستانی ہوٹلوں  میں ٹھہرنے کی بجائے

اپنے خوبصورت  ملک کے ہر کونے میں جائیں اور یہاں کے رسم و رواج  کے بارے میں  معلومات  حاصل کریں

 

نئی دہلی،16،اکتوبر/  وزیراعظم نریندر مودی نے   من کی بات کی  اپنی ایک حالیہ کڑی میں  لوگوں پر زور دیا تھا کہ وہ   ناقابل یقین ہندستان کی حیرت انگیز  چیزو ں کا پتہ لگائیں۔    اس سے   فیضان حاصل کرتے ہوئے   سیاحت کی وزارت نے  پریٹن پرو کا انعقاد کیا ہے جسے ہندستان کے سیاحتی ورثے کی ایک تقریب کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔  

سیاحت کی مرکزی وزارت دوسری مرکزی وزارتوں، مختلف ریاستی حکومتو ں اور اس میں دلچسپی رکھنے والوں کے تعاون سے پورے ہندستان میں 5 سے 25 اکتوبر تک ایک پریٹین پرو کا   انعقاد کررہی ہے۔  اس کے دوران   سیاحت کے   فوائد پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور   ملک کی   ثقافتی گوناگویت کو اجاگر کیا جائے گا اور  ‘‘ سب کے لئے سیاحت’  کے اصول کو مستحکم بنایا جائے گا۔    

یہ عجیب اتفاق ہے کہ     تہواروں سےمحبت رکھنے والے اس ملک میں پریٹین پرو    تہواروں کے موسم کے دوران ہورہا ہے۔    یہ ایک ایسا موقع ہے جب ملک کے بہت سے لوگ  ملک کے مختلف حصوں کا  دورہ کرنے کے لئے وقت نکالتے ہیں۔   لیکن  مختلف وجوہات سے لوگ   صرف انہیں  معروف مقامات کا دورہ کرتے ہیں  ، ایسی جگہوں کا جہاں لوگ اکثر جاتے ہیں لیکن یہ لوگ کم  معروف جگہوں کی سیاحت پر نہیں جاتے۔      معمول کے ٹورسٹ  مقامات پر جانے کے بجائے  اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندستانی افراد ہوٹلوں  میں ٹھہرنے کی بجائے  اپنے خوبصورت  ملک کے ہر کونے میں جائیں اور یہاں کے رسم و رواج  کے بارے میں  معلومات  حاصل کرنے کی غرض سے وہاں فراہم    مقامی   رہائشی مکانوں میں  قیام کریں۔

پریٹین پرو   یہی موقع فراہم کرتا ہے  ۔ حکومت  کے جامع  پروگرام کے ذریعے  دو باتیں   میرے سامنے آئیں   اس میں سے ایک   ‘ایک بھارت شریشٹھا بھارت’ کی اس اسکیم  میں حصہ لینا تھا اور دوسرا    سی بی ایس سی  کی   یہ ہدایات   کے اس سے وابستہ اسکول   طلبا کو  ہندستان کی   ثقافتی   اور روایتی گوناگونیت سے دلچسپی پیدا کرنے کے لئے     قومی ورثہ کی حامل  یادوگاروں کا دورہ کرایا جائے۔

یہ خیال   کہ اسکول کے طلبا کو یادگاروں کا درہ کرنا چاہئے کوئی نیا خیال نہیں  ہے بلکہ   ‘سیاحت اور مطالعات ’ ہی کی یہ نئی شکل ہے۔   ذرا تصور کیجئے کہ ایک کلاس کے بچے مہاراشٹر میں ایک قلعہ میں بیٹھے ہوئے چھترپتی شیواجی  کی فتح کے بارے میں معلومات حاصل کررہے ہیں یا  اکبر کے بارے میں   آگرہ کے قلعہ میں بیٹھے ہوئے پڑھ رہے ہیں۔    قو می ورثے کی یادگاریں اپنے اندر معلومات کا ایک خزانہ رکھتی ہیں۔   یہ یادگاریں نہ صرف  تاریخ  کا سبق دیتی ہیں بلکہ   اس زمانے کے  فن تعمیر  اور  روایتی  رسم و رواج کے بارے  میں بھی  معلومات کا ذریعہ بنتی ہیں۔   ا س طرح کی   چیزیں معلوم کرنے کے لئے   ان مقامات کا دورہ  کرنے سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہے۔  

 ہندستان  خوش قسمت ہے کیونکہ اس کے یہاں قومی  اہمیت کی حامل   3500 سے زیادہ  یادگاریں موجود ہیں  ( جن کی دیکھ بھال محکمہ آثار قدیمہ کے ذمہ ہے) اور تقریباً   دس ہزار دیگر   یادگاریں ہیں جن کی دیکھ بھال مختلف   ریاستی حکومتوں کے سپرد ہے۔      اسی طرح  تصور کیجئے کہ  کیرالہ کے لوگ ، ہماچل پردیش کے لوگوں کے ساتھ   مل جل کر   یا  مدھیہ پردیش کے لوگ    ناگالینڈ اور منی پور کے  لوگوں سے بات کررہے ہیں اور ان کے بارے میں  اور زیادہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ کیسا خوبصورت تصور ہے  اگر اس پر عمل درآمد ہوجائے۔  آدی  شنکر آچاریہ نے    ہندستان کے چاروں کونوں کے سلسلہ میں چار دھام کا تصور پیش کیا  اور  لوگوں کو  ملک کے مختلف حصوں میں   بارہ جیوترلنگا  کا دورہ کرنے پر  آمادہ کیا۔اگر مذہبی یاترا کے مقصد سے نہ سہی تو اس وسیع  ملک کے     قیمتی ورثہ اور  روایات کو معلوم کرنے کے لئے ہی سہی   دوسری ریاستوں کے  لوگوں کو مزید ملنا جلنا چاہئے۔  بعینہ یہی کام ہے جو سیاحت کی وزارت  پریٹن پرو کے ذریعہ کررہی ہے۔  اس کا مقصد یہی ہےکہ،‘  زبان ،کلچر، روایات اور مختلف ریاستوں کے  رسم و رواج سے واقفیت حاصل کرکے     ہم اپنی معلومات  میں اضافہ کرسکتےہیں   اور ملک کے   اتحاد   اور یکجہتی کو فروغ دے سکتے ہیں’۔

داخلی سیاحت کا فروغ:

‘نمستے ’ پوری دنیا  میں ہندستان کی شناخت کی حیثیت رکھتا ہے۔   ہندستان میں   پوری دنیا سے  اب نہیں بلکہ  مدتوں سے   سیاح آتے رہے ہیں۔    غیر ملکی سیاحوں کے آنے سے   غیر ملکی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے جس کی  بڑی ضرورت رہتی ہے    اور اس طرح انہیں ترجیح حاصل رہتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ    اندرون ملک کے سیاحوں کو  نظر انداز نہ کیا جائے۔  

وزارت سیاحت کی 17-2016 کی   سالانہ رپورٹ کے مطابق    اندرون ملک سیاحت سے   ہندستان میں  سیاحت کے شعبے کو    بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔  ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نیز   دیگر معلوماتی ذرائع سے حاصل اعدادوشمار کے مطابق    وزارت سیاحت کا کہنا ہے کہ    2015 کے دوران     ہندستانی سیاحوں کی تعداد     1432 ملین    رہی  جبکہ     2014 میں یہ تعداد    1282.8 ملین     تھی  جو  2014 کے مقابلہ میں   11.63 فی صد اضافہ کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے اگر اس کا مقابلہ اسی مدت میں   ہندستان آنے  والے غیر ملکی سیاحوں سے تعداد سے کیا جائے۔  (8.03 ملین)   یہ تعداد  اس سے پچھلے سال کے مقابلہ میں 4.5 فی صد زیادہ ہے۔   حکام سمیت  سیاحت کے شعبے سے دلچسپی رکھنے والے دیگر افراد کو بھی    اس   رجحان کو  سمجھنے کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور  پر    1999 میں   تقریباً  190.67 ملین  ملکی سیاحوں   سے لے کر  2015 میں   یہ تعداد    1431.97 ملین ہوگئی   ۔ داخلی سیاحت کی صنعت میں  زبرست  تبدیلیاں   رونما ہوئی ہیں اور صرف 16 سال  میں ملک کے سیاحوں کی تعداد 651.02 میں  فی صد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔    غالباً انہی تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے   حکومت نے مارچ 2018 تک  سیاحت سے متعلق  پالیسی میں    جامع کی    نوعیت میں تبدیلی لانے کا عمل   پہلے ہی شروع کردیا ہے۔   

 ایک وقت تھا جب  لوگ صرف   مذہبی یاتراؤں کے لئےنکلتے تھے اور سیاحت ایک مہنگا عمل تھا جس کو   مالدا ر لوگ ہی اپنا سکتے تھے۔  آ  ج جبکہ زیادہ سے زیادہ عام آدمی اور عورتیں   ہندستان کے مختلف حصوں کی سیاحت کے لئے گھر سے باہر پاؤں نکال رہے ہیں   اندرون ملک سیاحت  ،مذہبی یاتراؤں سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔    اس سے  حکومت   اور دلچسپی رکھنےوالے دیگر افراد کو یہ موقع حاصل ہوا ہے کہ وہ     اس سلسلہ میں  مزید امکانات تلاش کریں اور    بڑھتے ہوئے اس رجحان سے فائدہ اٹھائیں۔

 سیاحتی ڈھانچہ اور  روزی روٹی:

وزارت سیاحت کی طرف سے  جامع منصوبہ بندی   او ر ا  س سلسلہ میں دیگر مرکزی وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے   مرتب کئے گئے پروگراموں کی بدولت     یہ بات اچھی  طرح واضح ہوجاتی ہے کہ    سیاحت کے شعبے میں کتنی گوناگونیت پیدا کی جاسکتی ہے اور اس کا دیگر تمام وزارتوں   ، شعبوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔  یہ شعبے ہیں تعلیم،  ثقافت، ٹکسٹائل، شمال مشرقی  ہندستان کی ترقی،   دیہی ترقی اور یہاں تک کہ اطلاعات و نشریات کی وزارت۔  سیاحت کو  ایک مستحکم   بنیادی ڈھانچہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔   سیاحت کو نرم ضابطوں کی ضرورت ہوتی ہے    اور ایسے    حالات کی ضرورت ہوتی ہے جس میں سیاحت کو فروغ  حاصل ہو۔  اس کے جواب میں   سیاحت سے   مقامی آبادی کو    روزی روٹی ملتی ہے جس کی اسے  بڑی شدید ضرورت ہوتی ہے اور    حکومت کو   آمدنی کی شکل میں رقمیں ملتی ہے۔

ہندستان پوری دنیا میں      اپنی    مہمان نوازی کے لئے جانا جاتا ہے اور ہندستان کے بیشتر حصوں میں  صورتحال سیاحوں کے لئے   دوستانہ ہوتی ہے۔  لیکن بڑے میٹرو  شہروں سے لے کر سیاحت  کے نقشے پر واقع بعض جگہوں پر   سیاحت سے متعلق بنیادی   ڈھانچے میں بہت زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔     سیاحت کے فروغ کے لئے بیسیوں  چھوٹے مقامات   کو شناخت کرنے کی ضرورت ہے   ۔  اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ جہاں تک   سیاح  جانا چاہیں     انہیں   بہتر کنیکٹی ویٹی حاصل ہو  اور سیاحوں کے رہنے کی جگہوں کو   ترقی  دے کر انہیں بہتر بنایا جائے۔اس میں    اچھی رہائش گاہوں  اور    اچھی خدمات کی فراہمی بھی شامل ہے۔   سیاحت کی وزارت نے     پورے شہری مراکزمیں    بی اینڈ بی (بیڈ اور بریک فاسٹ)  کے ایک   سلسلہ کو فروغ دیا ہے ۔  لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ   دیہی   اور نیم دیہی علاقوں میں سیاحوں کو    گھروں میں ٹھہرانے پر توجہ مرکوز کی جائے۔   اس طرح کے  ہوم اسٹے  کے ذریعہ  سیاحت کو دیرپا ترقی حاصل ہوسکتی ہے   بجائے اس کے   کہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں    ٹھہرنے کا انتظام کیا جائے   جس سے اکثر  قدرتی  وسائل بھی  متاثر ہوتے ہیں۔   اس کے علاوہ    گھروں میں  ٹھہرانے کا انتظام مقامی آبادی سے   برائے راست    رابطہ قائم کرنے اور اس کے رسم و رواج اور کلچر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ایک بہتر ذریعہ ہے۔ اس اقدام سے   مقامی   لوگوں کی    روزی روٹی کے مواقع میں بھی بہتری ہوگی بجائے اس کے اس کا فائدہ    ہوٹل صنعت کو پہنچے جس کے ذریعہ    ساری رقم باہری لوگوں کی جیب میں چلی جائے۔    

 پریٹین پرو    ان    خامیوں کی نشاندہی کا  ایک اچھا ذریعہ ہے   نہ صرف اس وقت بلکہ    سیاحت کے   ایک بہتر   اور دیرپا مستقبل کے لئے بھی ۔

 نوویدیتا کھنڈیکر دہلی میں رہنے والی  ایک   آزاد جرنالسٹ ہیں ۔ وہ   ماحولیات  او ر ترقیاتی مسائل  پر لکھتی ہیں۔ اس مضمون میں     ظاہر کئے گئے    خیالات ان کے اپنے  ذاتی ہیں۔

 

 

*****

 

Uno-5193

( م ن۔ج . ج)