Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
14-October-2017 13:14 IST
خصوصی فیچر (ہست کلا سہیوگ شیور 07-17؍ اکتوبر 2017)

دستکاروں اور بنکروں کی بہبود

421 ہینڈولوم؍ دستکاری کے جاری ہست کلا سہیوگ شیوروں کے ذریعے ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ بنکروں اور دستکاروں کو فائدہ حاصل ہوگا

 

*پارُل چندرا                                                                                                   

بھارت ہاتھ سے بنے ہوئے کپڑوں  اور دستکاری کی گوناگوں  اشیاء کی وسیع روایات سے مالا مال ملک ہے، جس کی ستائش کرنے والے اور خریدار نہ صرف ملک میں بڑی تعداد میں موجود ہیں بلکہ بیرونی ملک کے لوگوں کو بھی یہ اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔ چاہے یہ آندھراپردیش اور اڈیشہ کی نفیس قسم کی بنی اِکات ساڑیاں ہوں، گجرات کی پٹن پٹولا ہو یا اترپردیش میں بنارس کی سلک کی ساڑیاں ہوں یا مدھیہ پردیش کی مہیش وری ہو یا تمل ناڈو کی لکڑی اور پتھر پر کی گئی نقاشی کی دستکاری ہو، یہ سبھی ہینڈلوم اور دستکاری کی وسیع اشیاء دنیا کو فراہم کرتی ہیں۔

 بھارت کے بنکر اور دستکار کپڑے اور دستکاری کی اشیاء کی وسیع اقسام بنانے میں انتہائی محنت سے کام کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہاتھوں سے دکھائی گئی کاریگری اور جادوئی بنائی والی مصنوعات سے ان بنکروں اور دستکاروں کو اتنی آمدنی نہیں ہوتی جو ان کی محنت شاقہ اور بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ خام مال کی بھرپور قیمت مل سکے۔

بنکروں اور دستکاروں کو، جو زیادہ تر دیہی بھارت میں بستے ہیں، اپنی مصنوعات کیلئے مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنا بھی بہت مشکل کام ہے۔ اس کے نتیجے میں انہیں اپنی مصنوعات کو فروخت کرنے کیلئے دلالوں یا بچولیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو  منافع ایک بڑا حصہ ہڑپ کرلیتے ہیں اور یہ بنکر اور دستکار وں  کو مناسب قیمت حاصل کرنے کے بجائے بہت معمولی معاوضہ مل پاتا ہے۔

بنکروں اور دستکاروں کو درپیش سنگین چیلنجوں سے نمٹنے کی خاطر ٹیکسٹائل کی مرکزی وزارت ان کی مدد کرنے کیلئے مختلف اقدامات کررہی ہے۔ ان اقدامات کے حصے کے طور پر وزارت 11 روزہ ’’ہست کلا سہیوگ شیور‘‘ کا انعقاد کررہی ہے۔ یہ کیمپ، جو 7 اکتوبر سے شروع ہوئے ہیں، 17 اکتوبر تک ملک کے طول وعرض میں لگائے جارہے ہیں۔ اس اقدام کو پنڈت دین دیال اپادھیائے غریب کلیان ورش کے نام منسوب کیا گیا ہے جو آنجہانی پنڈت دین  دیال کی صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر منایا جارہا ہے۔

یہ کیمپ ملک میں 200 سے زیادہ ہینڈلوم کے کلسٹروں اور بنکروں کے سروس سینٹر میں اور 200 سے زیادہ دستکاری کے کلسٹروں میں لگائے جارہے ہیں۔ یہ 228 اضلاع میں 372 مقامات پر لگائے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بنکروں او ردستکاروں کو رسائی حاصل ہوسکے۔

ٹیکسٹائل کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے پچھلے مہینے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ 421 ہینڈلوم؍ ہینڈی کرافٹ کلسٹروں میں لگائے جانے والے ہست کلا سہیوگ شیوروں کے ذریعے ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ بنکروں؍ دستکاروں کو فائدہ حاصل ہوگا۔ جن ریاستوں میں ان کیمپوں کا انعقاد کیا جارہا ہے ان میں آسام، اروناچل پردیش، آندھراپردیش، بہار، چھتیس گڑھ، ہماچل پردیش، ہریانہ، جموں وکشمیر، جھارکھنڈ، کیرالہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش،  مہاراشٹر، منی پور، میزورم، ناگالینڈ، اڈیشہ، پنجاب، راجستھان، تمل ناڈو، تلنگانہ، تریپورہ، اتراکھنڈ، اترپردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔

بنکروں اور دستکاروں کو قرض حاصل کرنے میں درپیش مختلف مشکلات سے آگاہی ہونے کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی وزارت نے ان کیمپوں میں بنیادی طور پر انہیں قرض کی سہولیات فراہم کرنے پر توجہ مرکز کی ہے۔ بنکروں اور دستکاروں کو خام مال کی خریداری یا اپنی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے، جیسے اپنے ہتھ کرگھوں کو بہتر بنانے کیلئے قرض کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کوشش کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے یہ کیمپ بنکروں اور دستکاروں کو حکومت کی مدرا اسکیم (مائیکرویونٹ ڈیولپمنٹ اینڈ ریفائنانس ایجنسی) کے ذریعے، جو بہت چھوٹی صنعتوں کو مالی امداد فراہم کرتی ہیں، قرض فراہم کرنے کی سہولیات پر توجہ دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کیمپوں میں شرکت کرنے والوں کو ہتھ کرگھا سموردھن سہایتہ کے تحت کے تحت ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے اور جدید سازوسامان اور  آلات کی کٹ کی خریداری کیلئے مدد فراہم کی جائے گی۔ ہتھ کرگھا اسکیم کے تحت حکومت بنکروں کو نئے ہتھ کرگھے خریدنے کیلئے 90 فیصد لاگت خود برداشت کرکے بنکروں کی مدد کرتی ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ ان کیمپوں میں بنکروں اور دستکاروں کو پہچان کارڈ (آئی کارڈ) بھی جاری کئے جارہے ہیں۔

بنکروں اور دستکاروں کو سب سے بڑی پریشانی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں ہوتی ہے اور اس پریشانی کو دیکھتے ہوئے  کچھ کیمپوں میں نمائش؍ کرافٹ بازار، خریداروں اور فروخت کرنے والوں کی میٹنگیں بھی منعقد کی جارہی ہیں۔

ان کیمپوں کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بنکروں کو  ’’سوت پاس بک‘‘ (یارن پاس بک) بھی جارہی ہے  کیونکہ سوت ہی بنکروں کیلئے سب سے اہم خام مال ہے۔

 اس کے علاوہ بنکروں اور دستکاروں کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کیمپ انہیں اس معاملے میں بھی مدد فراہم کریں گے کہ وہ کس طرح این آئی او ایس اور آئی جی این او یو کے ذریعے چلائے جانے والے کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔

بچولیوں یا دلالوں کے خاتمے کی کوشش کے طور پر ٹیکسٹائل کی وزارت بنکروں اور دستکاروں کو بھارت اور بیرونی ملکوں میں مارکیٹنگ کے مواقع میں شرکت کرنے میں بنکروں اور دستکاروں کی مدد کرکے انہیں براہ راست اپنی مصنوعات فروخت کرنے میں مدد کرتی ہے۔ وزارت یہ مدد نیشنل ہینڈلوم ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت فراہم کررہی ہے۔

اس کے علاوہ ٹیکسٹائل کی وزارت نے پچھلے تین برسوں کے دوران  ملک میں مصنوعات کی فروخت کیلئے 849 مواقع کا انعقاد کیا ہے جس کیلئے 151.90 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی ہے او جس سے ملک کے 846900 بنکروں  کو فائدہ پہنچا ہے۔

 ہست کلا سہیوگ شیور بنکروں او ر دستکاروں کی بہبود کیلئے ٹیکسٹائل کی وزارت کا ایک بڑا اقدام ہے جس کے نتیجے میں ان شعبوں میں تیزی آئے گی جو بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر  وزارت نے ’’ائ-دھاگہ ایپ‘‘ اور ’’بنکر متر‘‘ ایپ شروع کی ہیں جن کے ذریعے بنکر سوت اور دیگر خام مال کیلئے آرڈر دے سکتے ہیں اور جس کی وصولی کے بارے میں جانکاری حاصل کرسکتے ہیں۔

ہینڈلوم اور دستکاری کے شعبوں پر جو زور دیا جارہا ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ شعبے ملک کی معیشت میں وسیع تعاون کرتے ہیں اور وسیع  بیرونی زرمبادلہ  حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ہینڈلوم سیکٹر کو فروغ دینے کی خاطر وزیراعظم نریندر مودی نے 7 اگست 2015 کو  پہلا ہینڈلوم کا قومی دن کا آغاز کیا تھا۔

ہینڈلوم او ر دستکاری کے شعبے ملک میں زراعت کے بعد سب سے زیادہ روزگار دینے والے شعبے ہیں۔ 2016-17 کے ٹیکسٹائل کی وزارت کی رپورٹ کے مطابق ہینڈلوم اور ہینڈی کرافٹ کے سیکٹروں نے بالترتیب 43.31 لاکھ اور 68.86 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کیا۔ یہ دونوں سیکٹر اپنی معیاری مصنوعات کی برآمدت کے ذریعے قابل قدر بیرونی زرمبادلہ بھی کمارہے ہیں۔

 اس کے علاوہ ہمیں اس حقیقت کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہینڈلوم اور دستکاری بھارت کی وراثت کا بیش قیمت اور اٹوٹ حصہ ہے جسے نہ صرف محفوظ اور برقرار رکھنے بلکہ فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

*مصنفہ دہلی کی ایک سینئر صحافی ہیں۔ (مضمون میں دی گئی رائے  مصنف کی ذاتی رائے ہے)

 

۰۰۰۰۰۰۰۰

(م ن-و ا- ق ر)

(16-10-2017)

U-5192