Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
23-October-2017 12:06 IST
رو۔ رو فیری سروس اورنقل و حمل اور صارفین تک ضروری اشیاء کی بہم رسانی کے عمل پر اس کے اثرات

 

 

 

 

 

*امیتابھ کانت   

 

وزیراعظم نریندر مودی کے اپنی نوعیت کے پہلے جدید ترین رو۔ر و گھوگھا دہیج اور اس کے نتیجے میں ہزیرا پروجیکٹ (دوسرے مرحلے  کی)  شروعات بھارت میں نقل وحمل اور صارفین تک ضروری اشیا ء کی بہم رسانی کے شعبے میں ایک زبردست تبدیلی کا آغاز ہے۔ بھارت میں ضروری اشیاء کی لاگت انتہائی اونچی ہے اور سمندری راستوں کی گنجائش سے پوری طرح فائدہ اٹھانے سے لوگوں  ،اشیا  اور گاڑیوں کی نقل وحرکت میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ لاگت اور وقت میں کمی لاکر اس پروجیکٹس سے بھارت کی مصنوعات سازی اور درآمدات پر زبردست فائدے مند اثر پڑے گا۔ مثال کے طور پر جزیرہ نما سوراشٹر اور جنوبی گجرات کے درمیان خلیج کھمبات میں چلنے والی رو۔ رو فیری کا بنیادی ڈھانچے کا پروجیکٹ انتہائی چیلنجنگ ہے اور اس سے آٹھ گھنٹے کا سفر محض ایک گھنٹے کے سفر میں بدل جائے گا اور 360 کلو میٹر کا موجودہ فاصلہ محض 31 کلو میٹر کا فاصلہ رہ جائے گا۔

بھارت کے پاس جہاز رانی کیلئے آبی راستے تقریباً 14500 کلو میٹر ہیں جس میں سے ساحلی علاقہ تقریباً 7517 کلو میٹر ہے۔ جسے اگر نقل وحمل کے مقصد سے مؤثر طور پر فروغ دیا جائے تو اس سے سڑکو ں پر بھیربھار کم کرنے میں اور ریل نیٹ ورک میں ، نیز خطوں کی مجموعی اقتصادی ترقی پر کئی انداز میں اثر پڑے گا۔ ساحلی جہازرانی اور اندرون ملک آبی راستوں سے کی جانے والی نقل وحمل میں ایندھن کی بچت کا خیال رکھا جاتا ہے اور یہ ماحول دوست اور نقل وحمل کے کفایتی  طریقے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جبکہ اشیاء کی بڑے پیمانے پر نقل وحمل کی جارہی ہو۔ مال بردار بحری جہازوں سے خارج ہونے والے دھوئیں  میں مختلف گیسوں کا امتزاج 32 سے 36 گرام  سی او 2 فی ٹن ہوتا ہے جبکہ بھاری نقل وحمل کے لئے استعمال ہونے والی موٹر گاڑیوں میں یہ اخراج  51 سے 91 گرام سی او2 فی ٹن کلو میٹر کے بقدر ہوتا  ہے۔ سڑک کے راستے نقل وحمل  کی اوسط  لاگت 1.5 فی ٹن کلو میٹر ، ریلوے کے لئے یہ1.0 فی ٹن کلو میٹر ، جبکہ آبی راستوں کیلئے یہ محض 25 سے 30 پیسے  فی ٹن کلو میٹر ہے۔ ایک لیٹر ایندھن سڑک کے راستے 24 ٹن کلو میٹر سامان لے جاسکتا ہے اور ریل ٹرانسپورٹ کے ذریعے یہ 85 ٹن فی کلو میٹر ہوتا ہے جبکہ آبی ٹرانسپورٹ کے ذریعے یہ سامان زیادہ سے زیادہ 105 ٹن فی کلو میٹر  کی لاگت سے لے آیا جاتا ہے۔ ان اعداد وشمار سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ آبی  راستوں کے ذریعے نقل وحمل ، زمینی نقل وحمل کے مقابلے کہیں زیادہ کفایتی  اور ماحولیات دوست   ہوتی ہے۔ نقل وحمل پر آنے والی لاگت جی ڈی پی کے چودہ فیصد سے کم کرکے 9 فیصد کردی جائے تو ملک میں ہر سال 50 ار بڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔ تخفیف شدہ لاگت سے مصنوعات کی قیمتوں میں بھی ایک بار پھر کمی آجائے گی۔

بھارت میں اندرون ملک مجموعی آبی راستوں میں سے تقریباً 5200 کلو میٹر (36 فیصد) بڑے دریا ہیں اور تقریباً 485 کلو میٹر (3فیصد) نہریں ہیں جو موٹروالی کشتیوں کی آمدورفت کے لئے سازگار ہیں۔ اندرون ملک آبی راستوں کے، ریل اور سڑک ٹرانسپورٹیشن کی لاگت کے بہ نسبت کافی فائدے ہیں۔ یہ لاگت فی ٹن کلو میٹر 60 سے 80 فیصدکم پڑتی ہے۔ماحولیات پر اس کے کم سے کم مضراثرات مرتب ہوتے ہیں ، دو بحری جہازوں کے مابین ساز وسامان کا اتارنا چڑھانا آسان ہوتا ہے، اراضی کے حصول سے لے کر بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے مراحل میں  کم سے کم تنازعات کھڑے ہوتے ہیں۔ فی الحال 4500 کلو میٹر اندرون ملک آبی راستے تجارتی طورپر استعمال کیے جارہے ہیں اور بھارت میں آبی راستوں کے ذریعے گھریلو کارگو کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ لے جایا جاتا ہے۔

حکومت کا مقصد یہ ہے کہ آبی راستوں سے متعلق قانون 2016 کے تحت اس زبردست صلاحیت کو فروغ دینے کیلئے کام کرکے اندرون ملک آبی راستوں کے ذریعے نقل وحمل کو ترقی دی جائے۔ بھارت کی ساحلی پٹی کی مجموعی ترقی کے لئے حکومت نے مارچ 2015 میں ساگرمالا پروگرام کا آغاز کیا تھا اور بھارت کے ساحلی علاقوں کی جامع ترقی کے لئے ایک قومی خاکہ جاتی منصوبہ اس کے تحت تیار کیا گیا تھا۔

رول آن ۔ اینڈ رول آف (رو۔ رو) آبی راستوں کے پروجیکٹ رو ۔ رو جہازوں پر مشتمل ہیں۔ یہ پروجیکٹ اُن پہیوں والی گاڑیوں جیسے کاروں، ٹرکوں ، نی  ٹریلر ٹرکوں ، ٹریلروں اور ریل روڈ کاروں  کو لے جانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے جنہیں چلا کر لے جایا جاسکے یا اس گاڑی کو اتارنے اور چڑھانے کیلئے ایک پلیٹ فارم کاا ستعمال کیا جاسکے۔ یہ جیٹی پر مشتمل ہے جس میں متعلقہ پورٹ ٹرمنل اور مربوط بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔ مسافر جیٹی  کا استعمال محض فیری مسافروں کے لئے کیا جاتا ہے جبکہ رو۔ رو جیٹی میں کنارے پر قائم پلیٹ فارم ہوتے ہیں جس سے یہ خود چلاکر لے جانے والی گاڑیاں  مستعدی کے ساتھ جہاز میں لادی اور جہاز سے اتاری جاسکتی ہیں۔ گجرات میں رو۔ رو پروجیکٹ سے 100 گاڑیوں تک لے جائی جاسکتی ہیں۔ (کاریں ، بسیں اور ٹرک) گجرات میں رو ۔ رو  پروجیکٹ 100 گاڑیا ں لے جانے کاکام کرسکتا ہے، (کاریں ، بسیں اور ٹرک)  اور دونوں ٹرمنلوں کے درمیان 250 مسافروں کو لے جایا جاسکتا ہے۔ یہ بات تاریخی ہے کہ خطے میں سڑک ، ٹرانسپورٹ کے محدود متبادل موجود ہیں ۔ رو۔رو  فیری کے آپریٹر نے بھی جس کرائے کی تجویز رکھی ہے ، جو سڑکوں پر چلنے والی بسوں کےمطابق ہے۔ اس سہولت سے خطے کے مسافروں کو کافی راحت ملے گی۔

بھارت میں آسام، گجرات، کرناٹک ، مہاراشٹر اور کیرالا میں مختلف رو۔ رو پروجیکٹ  سے بھارت کے اُن اندرونی علاقوں تک وسیع امکانات پیدا ہوگئے ہیں جو جغرافیائی اعتبار سے پسماندہ ہیں۔ آبی راستوں سے رابطہ قائم کرنے سے یہ پسماندگی ایک زبردست فائدے میں بدل جائے گی۔

بھارت میں ان رو ۔ رو پروجیکٹوں میں سے زیادہ تر پر یا تو ای پی ایس طریقے سے عمل درآمد کیا جارہا ہے جس کا کام کاج اور دیکھ بھال کاکام ریاستی سرکار دیکھ رہی ہے یا پھر مہاراشٹر، تعمیر کے ساتھ سرکاری نجی شراکت داری ڈی بی ایف او ٹی جس کا کام کاج نجی کمپنیاں  دیکھ رہی ہیں، جیسے مزید حالیہ پروجیکٹ۔ اشیاء کی قیمتوں کے لئے عالمی مقابلے اور خطوں میں سماجی اور اقتصادی خوش حالی لانے کی ضرورت کے پیش نظر یہ لازمی ہے کہ حکومت نقل و حمل کے مربوط اور مستعد طریقے تیار کرے جو بہت سی سطحوں پر مشتمل ہوں، جن میں سے ہر ایک کو ایک فعال اور مستعد طریقے سے تیار کئے جانے کی ضرورت ہے۔ نقل و حمل کی ایسی بہت سی سطحوں میں سے ایک آبی راستے بھی ہیں۔

سمندر پر مبنی نقل و حمل میں سرمایہ کاری کے بہت سے طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ زمین پر مبنی ٹرانسپورٹ نظام کے بہت سے ایسے طریقوں سے ہٹ کر جن میں عمارت اور زمین کی ضرورت ہوتی ہے، راستے کے حقوق، سودے بازی اور دیگر معاملات آڑے آتے ہیں، سمندر پر مبنی ٹرانسپورٹیشن پروجیکٹ کی تجویز ایک آسان اور سیدھا سیدھا قدم ہے۔ اس میں بہت سے قانونی، سماجی اور ماحولیات سے متعلق معاملات آڑے نہیں آتے، جو ٹرانسپورٹ سے متعلق دیگر پروجیکٹوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ پی پی پی- ڈی بی ایف او ٹی ماڈل سے فیری آپریٹروں سے نیز ٹرمنل پر فیری کھڑی کئے جانے کے چارجز سے فائدے حاصل ہوں گے۔بھارت میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق مجبوریوں مجموعی آبادی اور اقتصادی ترقی کی وجہ سے کسی رو۔رو پروجیکٹ میں10 فیصد زیادہ آمدنی ہوتی ہے، لہٰذا یہ معاشی اعتبار سے ایک منفرد انداز کا قابل عمل پروجیکٹ ہے، البتہ ان پروجیکٹوں کے، بہت بڑے پیمانے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، لہٰذا ان پر اقتصادی اور سماجی نظریے سے غور و خوض کیا جانا چاہئے۔ لہٰذا ریاستی سرکاریں نئے رو۔رو پروجیکٹوں کو پی پی پی- ڈی بی ایف او ٹی طرز پر نجی کمپنیوں کو تفویض کرنے کے بارے میں غور و خوض کرسکتی ہیں، جبکہ موجودہ پروجیکٹوں کو پی پی پی- ریورس – بی او ٹی طرز پر تفویض کیا جاسکتا ہے۔ ایک مناسب پی پی پی ماڈل کے تحت حکومت کے پاس اہم قومی بنیادی ڈھانچے کی ملکیت اور کنٹرول باقی رہتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے مالی بوجھ میں کمی آتی ہے اور اثاثے کے کام کاج کی مستعدی آتی ہے۔ گرین فیلڈ پروجیکٹوں میں حکومت کے ذریعے ٹرمنل تعمیر کئے جانے کی ضرورت ہے، تاکہ یہ کام کاج نجی شعبے کے لئے تجارتی طور پر قابل عمل ہو۔

بھارتی ریلوے بھی ریل گاڑیوں سے متعلق رو۔رو خدمات شروع کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔ بھارتی ریلوے بہار میں کارگو گاڑیوں کے لئے اور تری پورہ میں پٹرولیم مصنوعات کے لئے رو۔رو سروس شروع کررہا ہے۔ ان سبھی رو۔رو پروجیکٹوں میں حکومت یہ منصوبہ بندی بھی کررہی ہے، اور اس بات کے لئے خود کو تیار بھی کررہی ہے کہ مقررہ وقت میں کنکریٹ کے پلوں کا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے۔

تازہ ترین بات یہ ہے کہ عالمی بینک کی رپورٹ 2016 میں جو لاجسٹک پرفارمنس انڈیکس (ایل پی آئی) کے بارے میں ہے، بھارت کو پینتیسویں درجے پر رکھا گیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے کی 2014 میں شائع شدہ رپورٹ میں اس کا 54واں مقام تھا۔ اس کے ایل پی آئی درجے میں مزید بہتری کے لئے مختلف طرز سے مربوط نقل و حمل کی سہولیات کو ترجیح دی جارہی ہے۔ یہ تجویز بھی رکھی گئی ہے کہ اعلیٰ درجے کی انجینئرنگ، مشاورتی خدمات بھی حاصل کی جائیں اور پروجیکٹ پر عمل درآمد کے لئے ایک مناسب طرز اختیار کی جائے تاکہ کسی بھی طرح کے جوکھم کو زیادہ سے زیادہ نظر میں رکھا جائے اور متعلقہ فریقوں کو اس کا فائدہ حاصل ہو۔ اس کے ساتھ ہی حکومت ملک بھر میں ٹرانسپورٹ پروجیکٹ پر عمل درآمد میں مستعدی میں اضافہ کرسکے گی۔ جیسا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس سے ڈیزل اور پٹرول کی درآمد پر بھارت کے انحصار میں کمی آئے گی اور یہ پروجیکٹ بھارت کو ترقی کے ایک نئے راستے پر گامزن کرائے گا۔ اس پروجیکٹ سے ایک کروڑ سے بھی زیادہ روزگار کے موقع پیدا ہوں گے اور سیاحت اور ٹرانسپورٹ شعبے کو فروغ حاصل ہوگا۔

 

*مصنف نیتی آیوگ میں سی ای او ہیں۔

اس مضمون میں ظاہر کئے گئے خیالات مصنف کے ذاتی خیالات ہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

م ن۔اس۔ع ن۔م ر۔

23-10-2017

UF-01-1775