Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
23-October-2017 14:02 IST
خصوصی فیچر: سسٹر نیویدتا کے یوم پیدائش کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر (28 اکتوبر)


 

اپنے کام کے لئے وقف ہستی: بہن نیویدتا، جن کی شخصیت آج بھارت کے لیے مینارۂ  نور کی حیثیت رکھتی ہے

http://pibphoto.nic.in/documents/rlink/2017/aug/i201783012.jpg

*ارچنا دتہ مکھو پادھیائے

 

‘‘مجھے یقین نہیں ہے کہ  کوئی بھارتی اس حد تک بھارت سے محبت کرتا ہوگا، جتنی محبت نیویدتا کرتی تھیں۔’’ یہ بات عظیم مجاہد آزادی جناب بپن چندر پال نے کہی تھی۔ ٹیگور انہیں بھارت کے لیے، ان کے ایثار نفس  کو دیکھ کر ‘‘لوک ماتا’’ کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ سوامی وویکانند نے  ان کا نام  بدل کر‘مس مارگریٹ الیزابتھ نوبُل’  کی بجائے نیویدتا یعنی ‘‘ لگن کے جذبےسے سرشار’’ رکھ دیا تھا۔

بھارتی خواتین کی ترقی کے لیے سوامی جی کی جوش و جذبے سے بھری آواز پر لبیک کہتے ہوئے نیویدتا،  28 جنوری 1889 کو اپنی ‘‘کرم بھومی’’بھارت کے ساحل سمندر تک پہنچیں اور یہیں سے  اصل بھارت کی اُن کی جستجو کا آغاز ہوا۔

نیویدتا نے بطور ملک، بھارت کی نہا ں بھارتی اقدار اور  ہندوستانیت کی عظیم صفات دریافت کیں۔  ان کی کتاب ‘‘دی ویب آف انڈین لائف’’ متعدد مضامین، انشائیوں، خطوط اور 1899 سے 1901  اور 1908 کے درمیان غیر ممالک میں دئیے گئے ان کے خطبات پر مشتمل ہے۔یہ تمام چیزیں بھارت کے متعلق ان کی عمیق جانکاری کا بیّن ثبوت ہیں۔

نیویدتا، بھارتی اقدار اور روایات کی زبردست علمبردار تھیں اور انھوں نے ‘‘اصل تعلیم، قومی تعلیم کے کاز کو آگے بڑھایا اور کوشش کی کہ بھارتیوں کو ‘‘یوروپ کی بھدّی نقل’’ کی بجائے ‘‘بھارت ورش کی بیٹیوں اور بیٹوں میں بدل دیا جائے۔’’ وہ چاہتی تھیں کہ بھارتی خواتین ‘‘قدیم وقار اور خوش مزاجی اور شرافت اور پاکیزگی’’ کو کبھی ترک نہ کریں اور ‘‘مغربی اطلاعات اور سماجی جارحیت’’ کو نہ اپنائیں۔  وہ اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ تعلیم کو بھارتیوں تک ‘‘ بھارتی ذہن’’ کے طور پر  پہنچایا جائے تاکہ ‘‘بھارتی مسائل’’ کا حل نکالا جاسکے۔

نیویدتا نے کولکاتہ کے شمالی حصے میں، ایک  دقیانوسی کالونی میں اپنا تجرباتی اسکول کھولا تھا۔  یہ اسکول 1898 کا یوروپی باشندوں پر مشتمل بستی والے شہر کے وسطی  حصے کا کوئی اسکول نہیں تھا۔ انہیں بہ نفس نفیس آس پاس دروازے دروازے جاکر طلبا کے داخلے کے لیے والدین کو راضی کرنا پڑا۔  ان کے ذہن میں اپنے اسکول میں عہد حاضر کے ‘‘میتریوں اور گارگیوں’’ کو تیار کرنے کا خواب تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ وہ اس ادارے کو ایک ‘‘شاندار تعلیمی تحریک ’’ کی اکائی بنادیں۔

اس اسکول کی سرگرمیاں صحیح معنوں میں قومی جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ جب ملک میں ‘‘وندے ماترم’’ پر پابندی عائد کردی گئی، ان کے اسکول میں یہ دعا کی تمہید بن گیا۔  جیلوں سے مجاہدین آزادی کی رہائی، جشن کا موقع ہوا کرتا تھا۔ نیویدتا، اپنے سینئر طلبا کو باہر لے جاتی تھیں تاکہ وہ تحریک آزادی کے عظیم رہنماؤں کی تقاریر سے مستفید ہوسکیں اور ان میں جدوجہد آزادی  کی اقدار جاگزیں ہوسکیں۔

نیویدتا نے 1904 میں اولین قومی پرچم کا پروٹو ٹائپ ڈیزائن تیار کیا تھا اور اس پرچم میں مرکز میں ‘وجر ’رکھا گیا تھا، جس کا تعلق عظیم سنت ، ددھیچی کے ایثار ذات کے آئیڈیل سے تھا۔  ان کے طلبا نے بنگالی زبان میں  ‘‘بندے موترم’’ کی کشیدہ کاری کی تھی۔ یہ پرچم 1906 میں انڈین کانگریس کے ذریعے منعقد کی گئی نمائش میں رکھا گیا تھا۔

ان کے لیے تعلیم بااختیار بنانے کا ایک وسیلہ تھی۔  نیویدتا نے روایتی تدریس  کے ساتھ، دستکاری اور پیشہ وارانہ تربیت کا سلسلہ بھی متعارف کرایا تاکہ طلبا اپنے گھروں سے روزی روٹی کمانے کے لائق بن سکیں۔  وہ بالغان اور نوجوان بیواؤں کو تعلیم  اور ہنرمندی ترقیا ت کے کے دائرے  میں لے آئیں۔ اوقات کی پابندی  سہ پہر میں ان کے لیے نرم کی گئی۔ ہنرمندی اور دستکاری کے کام کو بھارتی حالات کے مطابق ان کی موذونیت کے لحاظ سے منتخب کیا گیا۔ نیویدتا اپنے ذہن میں قدیم ہندوستانی صنعتوں کے احیا کا وسیع خاکہ رکھتی تھیں اور صنعت اور تعلیم کے تعلق کو استوار کرنا چاہتی تھیں۔

نیویدتا نے بھارتی اذہان میں حب الوطنی  کی جوت جگانے میں اہم کردار  ادا کیا۔ سوامی جی کے ‘‘تخلیق انسان’’ کے نظریے کو انھوں نے وسعت دے کر اس میں ‘‘تعمیر قوم’’ کو بھی شامل کرلیا تھا۔ انھوں نے بھارت کے افراد و خواتین کو اپنی مادر وطن کے لیے محبت کو پروان چڑھانے کے عمل کو ‘‘لازمی عمل’’ بنانے کی تلقین کی تاکہ اس کے مفادات کو ایک ‘‘ذمہ داری’’ کے طور پر تحفظ دیا جاسکے اور ‘‘مادر وطن’’ کے لیے قربانی کے کسی بھی مطالبے پر لبیک کہا جاسکے۔

بھارت کو متحد کرنا اُن کے ذہن میں سرفہرست موضوع تھا۔ انھوں نے بھارت کے لوگوں سے گذارش کی کہ وہ  اتحاد کے ‘‘اصول ’’ پروان چڑھائیں اور یہ سمجھ لیں کہ ‘‘بھارت ایک ہے، اور ایک ہی رہے گا’’۔ وہ اس بات کو اپنے ذہن و دل میں بٹھالیں اور قوم پرست بن جائیں اور ‘‘مسرت اور قوت کا احساس کریں۔’’

نیویدتا نے پوری دلجمعی کےساتھ 1905 میں سودیشی تحریک میں شرکت کی اور اسے غیر ملکی سازو سامان کے بائیکاٹ یا سیاست یا اقتصادی پہلو کی حامل ، تحریک ہی نہیں سمجھا بلکہ اسے بھارتیوں کے لیے ایک ‘‘تپسیا’’ یعنی ریاضت خیال کیا اور اس ریاضت کو عظیم روحانی اور قومی  اہمیت کا حامل سمجھا۔

نیویدتا، مختلف موضوعات پر  بسیار نویس مصنف تھیں۔ توجہ طلب موضوعات پر معروف بھارتی روزناموں اور جرائد میں ان کی تحریریں، عوام میں حب الوطنی کا جذبہ جگانے میں جادو کاسا اثر رکھتی تھیں اور وہ فوراً اُن پر عمل پیرا ہونے کے لیے تیار ہوجاتے تھے، خواہ وہ تحریک آزادی ہو، فنون یا ثقافت کا احیا ہو یا جدید سائنسز اور تعلیم کی دنیا  میں تلاش و جستجو کا  کوئی عمل ہو۔

نیویدتا نے  نوآبادیاتی نظام پر مبنی بھارت میں  سائنٹفک تحقیق اور ترقیات کے اداروں کی تعمیر کے لیے جدوجہد کی۔کولکاتہ میں قائم بوس انسٹی ٹیوٹ، ان کی اسی خواہش اور لگن کی زندہ جاوید مثال ہے۔

ناداروں اور ضرورت مندوں کے لیے نیویدتا کی خدمات، خواہ  ان کا تعلق کولکاتہ میں طاعون کی وبا کے دوران  کی خدمات سے ہو یا بنگال میں آئے سیلاب  کے دوران راحت رسانی سے، ہر معاملے میں ان کی بے لوث خدمات بے شمار ہیں۔

بھارت میں شروع ہونے والی کسی بھی ترقی پسند تحریک میں نیویدتا ایک علامتی قوت بن گئیں تھیں۔ کولکاتہ کے شمالی حصے میں‘‘باغ بازار’’ میں واقع  اُن کا چھوٹا سا گھر  تمام ہم عصر سرکردہ عوامی شخصیات کے اجتماع کا ایک حقیقی مرکز بن گیا تھا۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ عظیم مجاہد آزادی راس بہاری بوس نے انہیں یاد کرتے ہوئے کہا تھا ‘‘ اگرآج ہم بالیدہ  قومی زندگی سے بہرہ ور ہیں، تو اس میں سسٹر نیویدتا کی تعلیمات یقینی طور پر شامل ہیں۔’’

دراصل ان کی 150ویں سالگرہ منانے کے موقع پر ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک ان کی اس کثیر پہلووی شخصیت کا ازسر نو تجزیہ کرے۔ عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق، نئے طرز کی ‘‘سیتا، ساوتری، دروپدی، گاندھاری، دمینتی’’ پیدا کرنے کااُن کا  عملی نظریہ ،  ایسا ہے جس نے انہیں تاریخ ہند میں ایک عظیم صاحب بصیرت کا مقام عطا کیا ہے۔ نیویدتا نے ، بھارت میں خواتین کے لیے ‘‘مؤثر تعلیم ’’ اور ‘‘حقیقی نجات’’ کی تعریف اس طرح پیش کی ‘‘ بڑے پیمانے پرکام کرنے کے لیے، مصیبت اٹھانے کے لیے، محبت کرنے کے لیے، حدود سے تجاوز کرنے کے لیے، عظیم مقاصد کے لیے، بیدار ہونے کے لیے، قومی راست بازی کے لیے، تبدیل ہوکرمستحکم بن کر کھڑے ہونے کے لیے’’۔ آج کے بھارت میں خواتین کے لیے، جو کارزار حیات میں  اپنی ہنرمندی کا لوہا منوارہی ہیں،  سماجی نا انصافیوں اور فرسودہ روایات  اور ثقافتی بندشوں  کےخلاف نبردآزما ہیں،   کیا یہ ایک زبردست ترغیب نہیں ہے؟

***

*ارچنا دتہ ایک سابق سول سرونٹ ہیں۔ موصوفہ ڈائرکٹر جنرل (نیوز)، آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن رہ چکی ہیں۔

اس مضمون میں اظہار کردہ نظریات و خیالات مصنفہ کے ذاتی ہیں۔

 

 

UF – 02