Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
24-October-2017 10:30 IST
سردار پٹیل کا یوم پیدائش 31 اکتوبر ، راشٹریہ ایکتا دیوس کے طور پر منایا جائے گا

* دیپک راز داں

نئی دہلی، 24اکتوبر  2017،   ہندوستان کی جنگ آزادی کے مرد آہن سردار بلبھ بھائی پٹیل  نے آزادی کے بعد ہندوستان کی یکجہتی کیلئے اپنی پوری آہنی قوت لگا دی تھی۔ ایک آزاد ملک کا جنم ہوا تھا۔ اس کی یکجہتی کا تحفظ ضروری تھا۔ اپنی حیرت انگیز صلاحیتوں کے ساتھ سردار پٹیل نے یہ کام بہ حسن و خوبی انجام دیا اور وہ ایک متحدہ ہندوستان کے معمار بن گئے۔ اس وجہ سے 31 اکتوبر کو ان کا یوم پیدائش ہندوستان میں راشٹریہ ایکتا دیوس کے طور پر منایا جاتا ہے اور  اس دن ملک کی یکجہتی کیلئے ان کی انتھک کوششوں کو سراہاجاتا ہے۔

حال ہی برسوں کے مقابلے میں اس سال کی تقریبات کہیں زیادہ شاندار ہونگی۔ اس دن قومی یکجہتی  کے استحکام کے لئے حلف لیا جائے گا ۔ عوامی بیداری کی مہم چلائی جائے گی، نیم فوجی دستوں کا مارچ ہوگا ، رن فار یونٹی، پوسٹر اور کوئز کمپٹیشن اور ہندوستان کی تاریخ کے اہم ترین موڑ پر سردار پٹیل کے رول سے عوام کو روشناش کرانے کے لئے نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا ۔

ملک بھر میں قومی سطح کی تقریبات منعقد کی جائیں گی،جس کے لئے تیاریاں زور شور سے جاری ہیں ۔ مرکزی وزیر داخلہ جناب راجناتھ سنگھ نے ریاستوں کے وزراء اعلیٰ کو لکھا ہے کہ وہ ان تقریبات کے لئے مناسب انتظامات کریں۔ یہ بہت ہی مبارک موقع ہے ، جب ہندوستان جنگ آزادی کی ایک اہم شخصیت کے تئیں خراج تحسین پیش کرے گا  اور نئی نسل کو ان کی خدمات سے روشناش کرائے گا۔

ہندوستان کی سیاسی یکجہتی میں سردار پٹیل نے قائدانہ رول ادا کیا ۔انہوں نے متعدد چھوٹی ریاستوں کا ہندوستانی وفاق میں الحاق کرایا۔ ان کی رہنمائی اور زبردست اصرار کے زیر اثر متعدد ریاستوں نے مل کر ایک بڑی ریاست بنائی اور پھر ہندوستانی وفاق میں شامل ہوئیں ۔ علاقائیت کی جگہ قومیت کے جذبہ نے لی اور ان کی رہنمائی میں لوگوں نے تنگ نظری کو خیر باد کہہ کر استحکام کا راستہ اختیار کیا۔ آج ہمیں ملک کی جو یکجہتی نظر آتی ہے وہ آزادی کے بعد کے ابتدائی دور میں سردار پٹیل کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے ۔

قومی راجدھانی دہلی میں راشٹریہ ایکتا دیوس کے آغاز   میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی سنسد مارگ پر سردار پٹیل چوک میں سردار پٹیل کے مجسمہ پر  خراج عقیدت پیش کریں گے۔ اس کے بعد وزیر اعظم میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم میں رن فار یونیٹی کا جھنڈی دکھا کر آغاز کریں گے جس میں تقریباََ 25 ہزار طلباء اور سماج کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد  ،سابق فوجی ،شہرت یافتہ کھلاڑی اور این ایس ایس کے والنٹیئر شرکت کریں گے۔  رن فار یونیٹی کے آغاز کے موقع پر   پی وی سندھو (بیڈمنٹن) ، متالی راج( کرکٹ ) اور سردار سنگھ (ہاکی) جیسی کھیلوں کی  ممتاز شخصیات موجود ہوں گی ۔

رن فار یونیٹی کا  آغاز  نیشنل اسٹیڈیم سے ہوگا ،  یہ سی – ہیکساگن ، انڈیا گیٹ  - شاہ جہاں روڈ ریڈیل – انڈیا گیٹ سے گزرتا ہوا، 1.5 کلو میٹر کی دوری طے کرے گا۔ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے تجربہ کار کوچیز  اس رن کی نگرانی کریں گے۔

یکجہتی کے پیغام کو پھیلانے کے لئے ریلوے ، ثقافت، سیاحت ، اطلاعات و نشریات ، مکانات اور شہری امور کی وزارتوں کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کے دیگر کئی محکمہ پروگراموں کا انعقاد کریں گے۔ قومی راجدھانی کے بیچو بیچ کناٹ پلیس کے سنٹرل پارک میں اور چانکیہ پوری کے شانتی پتھ پر روز گارڈن میں  سردار پٹیل کے بارے میں نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا  اور ان کے عزم و استقلال سے لوگوں کو روشناش کرایا جائے گا ۔ ان تقریبات کو ایک تہوار کی شکل دینے کے لئے شہنائی  بجائی جائے گی۔

اس دن کی اہمیت کے پیش نظر آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن پر خصوصی پروگرام پیش کئے جائیں گے اور دور درشن پر فلم ‘سردار’ دکھائی  جائے گی۔سردار پٹیل کے بارے میں 6 کتابوں کے نئے ایڈیشن جاری کئے جائیں گے اور وہ ای-بکس کے طور پر دستیاب ہوں گی۔

31 اکتوبر کو حکومت پورے ملک میں قومی یکجہتی اور سلامتی کے لئے اپنی عہد بندی کو مستحکم کرنے کے لئے ایک خاص موقع  یعنی راشٹریہ ایکتا دیوس(یوم قومی یکجہتی) کے طور پر منائے گی  اور جمہوریہ ہند کے بانیان میں سے ایک  سردار بلبھ بھائی پٹیل  کو یاد کرے گی  جو کہ ہندوستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

گذشتہ سال 31 اکتوبر 2016 کو رن فار یونیٹی کے موقع پر وزیر اعظم نے کہا تھا  ‘‘ آج ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر سے کنیا کماری تک اٹک سے کٹک تک ہمالیہ سے سمندر تک سب جگہ ترنگا لہرا رہا ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ  پورے ملک میں  ترنگا لہرا رہا ہے۔اور اس کا سہرا سردار بلبھ بھائی پٹیل کے سر ہے ’’۔اسی روز وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے پرگتی میدان کے قریب سردار صاحب کی زندگی پر مبنی ایک مستقل ڈجیٹل میوزیم کا افتتاح بھی کیا۔ سردار پٹیل کا قومی یکجہتی کا پیغام ہر ایک ہندوستانی تک پہچانے کے لئے انہو ں نے ‘ ایک بھارت، شریشٹھ بھارت’ پہل کا آغاز کیا  تاکہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے لوگوں کے درمیان رابطوں کو مستحکم کیا جا سکے۔وزیر اعظم نے  سردار پٹیل کے یوم پیدائش کی یادگار کے طور پر  ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔سردار پٹیل کی غیر معمولی صلاحیت   اور  تدبر کو یاد کرتے ہوئے اس سے ایک سال قبل یعنی 2015 کے رن فار یونیٹی کے موقع پر وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ‘ چانکیہ کے بعد یہ سردار پٹیل ہی تھے جو ہندوستان کو ایک دھاگے میں باندھ سکے’ ۔

سردار پٹیل کا جنم 31 اکتوبر 1875 کو آنند کے قریب  کرم ساد گاؤں کے ایک چھوٹے زمیندار کے گھر میں ہوا تھا۔ ان کا نام بلبھ بھائی زویر بھائی پٹیل رکھا گیا تھا ۔ ایک وکیل کے طور پر انہوں نے سخت محنت کی اور اعلیٰ قانونی تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلینڈ جانے کے واسطے بچت کی ۔ آہستہ آہستہ  انہوں نے عوامی مفاد کے معاملوں میں سختی کے ساتھ پیروی کرنے والے  ایک بے خوف بیرسٹر کے طور پر  شہرت حاصل کی ۔

1928 میں بردولی کسانوں کی لگان کی شرح کے بارے میں تحریک کی انہوں نے قیادت کی ۔ انہوں نے کسانوں سے کہا کہ وہ طویل مدت تک صعوبتیں برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ آخر کار سردار پٹیل کی قیادت میں چلنے والی یہ تحریک کامیاب ہوئی اور حکومت بات چیت کرنے اور لگان کی شرحوں میں کی گئی ترمیم کو واپس لینے کے لئے مجبور ہوئی ۔گاؤں کی ایک میٹنگ میں ایک کسان نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ‘ آپ ہمارے سردار ہیں ’ بردولی تحریک سے بلبھ بھائی قومی سطح کے لیڈر بن گئے تھے ۔

ہندوستان کے اتحاد کے معمار کو ایک موزو ں خراج تحسین کے طور پر  گجرات میں نرمدا باندھ کے سامنے  ایک 182 میٹر (597 فٹ) اونچا مجسمہ اسٹیچو آف یونیٹی زیر تعمیر  ہے ، جوکہ وڑودرہ  کے قریب 3.2 کلو میٹر دور واقع دریا کے ایک جزیرے سادھو بیٹ پر تعمیر کیا جا رہا ہے ۔اس کا ذیزائین معروف مجسمہ ساز رام وی – ستار نے تیار کیا ہے ۔ یہ مجسمہ 20 ہزار مربع میٹر کے پروجیکٹ ایریا میں تعمیر کیا جا رہا ہے  اور اس کے چاروں طرف 12 کلو میٹر کے علاقے میں ایک مصنوعی جھیل ہوگی ۔مجسمہ کی تعمیر کا کام 31 اکتوبر 2014 کو ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس پروجیکٹ کو ایک سال قبل رسمی طور پر شروع کیا گیا تھا۔ مکمل ہو جانے پر یہ دنیا کا سب سے اونچا مجسمہ ہوگا۔

*****

 

* دیپک راز داں سینئر صحافی ہیں اور فی الحال روزنامہ  اسٹیٹس مین ،سنئی دہلی میں ایڈیٹوریل کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اس مضمون میں جن خیالات اور نظریات کا اظہار کیا گیا ہے وہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں۔


 م ن۔ا گ ۔ع ج

UF -03