Print ReleasePrint
XClose
Press Information Bureau
Government of India
Special Service and Features
25-October-2017 11:07 IST
سردار پٹیل کے معاشی تصورات

    

    (پوجا مہرا)

 

 نئی دہلی ، 26 اکتوبر2017،           سردار پٹیل نے 1917 سے 1950 تک ہندوستانی سیاست پر راج کیا ہے۔ پہلے وہ آزادیٔ جدوجہد میں سب سے آگے تھے۔ اس کے بعد 1947 میں ہندوستان آزاد ہوا اور انہوں نے نائب وزیر اعظم کی حیثیت سے داخلہ، ریاستی، اطلاعات اور نشریات کے اہم قلمدان سنبھالے۔ سردار پٹیل ایک فرد آہن اور جدید ہندوستان کے بانی تھے۔ انہوں نے حکام کی بڑی تعداد میں پاکستان منتقلی کے بعد ہندوستانی بیورو کریسی (نوکر شاہی) کی دوبارہ تعمیر کی، رجواڑی ریاستوں کو انڈین یونین میں ہم آہنگ یا یکجا کیا اور ہندوستانی آئین کو بنانے میں ایک اہم کردار  اداکیا۔ سرحدی استحکام کے پیچھے ان کا مقصد حکومت، صنعت کاروں اور محنت کشوں کو فوری طور پر ملک کی بازیابی اور تعمیر نو کے لئے کوششوں میں شامل کرانا تھا۔ ان کا مقصد ملک کے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانا تھا۔ ان کے الفاظ تھے انگریز وہ سب کچھ لے گئے جو انہیں لے جانا تھا اور اپنے پیچھے صرف مجسمے چھوڑ گئے۔ برطانوی حکومت کے ذریعہ ہندوستانی معیشت کو رفتار دینے کے لئے اپنائی جانے والی متعدد معاشی  پالیسیاں آج بھی وہی ہیں۔ اس لئے درآمد کو انتہائی محدود کر دیا گیا اور ہندوستانی برآمدات کے ذریعہ کمائی گئی بیرونی آمدنی اور کرنسی جو جنگی اخراجات کے لئے بینک آف انگلینڈ میں جمع کی گئی تھی آج تک ریزرو بینک آف انڈیا میں منتقل نہیں کی گئی ہے۔ اس کے نتیجہ میں، ایک بڑا اور قابل حجم سرمایہ بینکوں میں جمع ہو گیا تھا لیکن  جنگ سے متاثرہ  انگلینڈ اپنے بقایاجات ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا، افراط زر بہت زیادہ بڑھ گئی اور قابو سے باہر ہو گئی۔ مئی 1949 میں، اندور میں، انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس (آئی این ٹی یو سی) کی میٹنگ سے اپنے خطاب میں سردار پٹیل نے بھارتی معیشت کی تعمیر نو کے ارادے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا: لمبے عرصے سے غلامی میں مبتلا رہنے اور حالیہ برسوں کی جنگ نے ہمارے ملک کی معیشت کو نچوڑ لیا ہے۔ اب ہمیں اقتدار حاصل ہوا ہے۔ تعمیر نو کیلئے ہمیں یکجا ہونے کی ضرورت ہے، اس میں نئے خون کی بوند بوند کی سراعیت ہونا ہے۔

تقسیم نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا اور اس طرح تجارت میں خود اعتمادی حاصل کرنا ایک کار محال تھا۔ تقسیم کے علاوہ ، کلکتہ کے فکرمند تاجروں نے بھی نسل  درنسل کلکتہ سے ہی تجارت میں لگے ہونے کے باعث  اب شہر سے باہر نکل کر تجارت کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ سردار پٹیل نے ان تاجروں کی رہنمائی کی اور انہیں ایسا کرنے سے باز رہنے کی ہدایت دی اور شہر میں ہی رکنے کو کہا۔ انہوں نے کولکاتہ میں کہا کہ  ‘‘ میں نے انہیں  (تاجروں کو) یہیں رکنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ دنیا میں کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو کلکتہ کو ہندوستان سے دور کر سکے۔ جو فیکٹریاں وہاں جوٹ کی پیداوار پر منحصر تھیں، اب پاکستان کا حصہ ہیں۔ پڑوسی ملک  نے معاہدے پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ جس جوٹ  پیداوار کی قیمت ادا کر دی گئی تھی وہ بھی فراہم نہیں کیا گیا ہے’’۔ سردار پٹیل نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ ہندوستان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ پڑوسی ملک کو جوٹ فراہم کرنے کے معاہدے پر عمل آوری کے لئے بار بار یاد دلائے یا جوٹ کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرے۔ جنوری 1950 میں دہلی میں ایک عوامی جلسے  میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر پڑوسی ملک معاہدے کے نفاذ کی گارنٹی نہیں دے سکتا ہے تو ہمارے لئے بہتر ہوگا کہ ہم اس پر منحصر نہ رہیں۔ آیئے ہم سب مل کر اپنی ضرورت کے مطابق جوٹ، کپاس اور غذائی اجناس خود پیدا کریں۔

سردار پٹیل کے نظریات، سوچ اور طریقۂ  کار نے ہندوستان کے معاشی چیلنجوں کو حل کرنے کے لئے کافی حد تک ایک  نئی جہت پیش کی اور سیاسی جمہوری ہندوستان کے بانی اور قوم کے معمار ہونے کے ناطے انہوں نے اس میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ خود انحصاری ، سردار پٹیل کے معاشی فلسفے کا سب سے بڑا یقین تھا۔ جس پر ان کے نظریات پنڈت نہرو اور مہاتما گاندھی کے نظریے ‘‘ گاؤں کی سطح پر خود کفیل ہونا’’ سے کافی قریبی تعلق اور مطابقت رکھتے تھے۔ انہوں نے حکومت کے رول کو اس سلسلے میں ایک فلاحی ریاست کے طور پر پیش کیا لیکن انہوں نے یہ بھی محسوس کر لیا تھا کہ دوسرے ممالک نے ترقیاتی کام کو اور زیادہ ایڈوانس سطح پر اٹھایا ہے۔ وہ سوشلزم کے لئے لگائے جا رہے نعروں اور ہندوستان کو امیر بنانے اور اس دولت کا کیا ہوگا اور وہ کیسے  مشترک کی جائے گی پر بحث کئے بغیر جیسی باتوں سے متاثر نہیں تھے۔

  نیشنلزم کو انہوں نے مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صنعت کو تجارتی معاشرے کی روح ہونا چاہیے۔ نہ ہی وہ منصوبہ بندی میں بہت زیادہ یقین رکھتے تھے اور خصوصی طور پر ترقی یافتہ اور صنعتی ملکوں میں رائج منصوبہ بندی میں ان کو یقین نہیں تھا۔

سردار بلبھ بھائی پٹیل کنٹرول پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ لیکن وہ اس پر جزوی طور پر عمل کر سکتے تھے کیونکہ اس کے نفاذ کے لئے عملہ یا اسٹاف کافی نہیں تھا۔ اس فقدان کی وجہ یہ تھی کہ وہ جن انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ کام کرتے تھے ان میں سے افسران کی بہت بڑی تعداد نے پاکستان جانے کا متبادل اختیار کیا تھا جب کہ دوسرے سینئر افسران کی تقرری دنیا بھر میں کھولے جانے والے سفارت خانوں میں ہو گئی تھی۔ اپریل 1950 میں ریاستوں کے وزراء اعلیٰ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا۔‘‘ ہم ملک کا انتظام ایک چوتھائی عملے کے ساتھ چلا رہے ہیں جو ملک کی آزادی کے وقت موجود تھا جب کہ قانون اور امن کو برقرار رکھنے اور اپنے ذیلی عملے سے با صلاحیت طریقے سے کام کرانے کے لئے 50 فیصد عملے کی ضرورت ہوتی ہے’’۔

وہ منافع کے مقصد کو محنت اور جدوجہد کے لئے ایک عظیم محرک کے طور پر دیکھتے تھے نہ کہ ایک دھبے یا تہمت کے طور پر۔ انہوں نے اسے مکمل طور پر ثابت کیا تھا۔ اور اس کی وکالت غیر سرمایہ دار طبقے، متوسط طبقے، محنت کش طبقے اور یہاں تک کہ کاشتکار طبقے کے لئے کی تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دولت کی جمع خوری کو ایک سماجی مسئلہ اور غیر اخلاقی تصور نہیں کرتے تھے۔ وہ خود سماجی بیداری اور واقفیت میں یقین رکھتے تھے اور انہوں نے تمام تر مقاصد کے اوپر اعلیٰ طریقے سے سماجی بیداری  کوقومی فرض کے طور پر  اپنانے کی اپیل کی۔ وہ اس بات پر بحث کرتے تھے کہ یہ واقفیت صرف اخلاق اور حب الوطنی پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ایک معاشی مداخلت بھی ہے جس سے معاشی اداروں میں جمع دولت کو چینلائز کرنے میں بھی مدد ملے گی’ جہاں منافع صرف امیروں اور امیر ترین کی جاگیر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اس کے لئے بھی بیدار تھے کہ اگر ملک میں معاشی مسائل اسی طرح بنے رہے تو کیا ایسا ہوگا جو اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرے گا؟

وہ لالچ کو نظر انداز کرنے یا ختم کرنے کی مسلسل نصیحت کرتے تھے۔ وہ مزدوروں سے کہتے تھے کہ اپنے حصے کی دولت مانگنے سے پہلے دولت پیدا کرنے میں حصے داری نبھائیں اور ہمیشہ مہاتما  گاندھی کا طریقہ  یعنی آئینی وسیلے کے ذریعہ مزدور کو اس کا اصل حق دلوایا جا سکتا ہے پر عمل کرتے تھے ۔

سردار پٹیل، ہندوستان کو جلد از جلد ایک صنعتی ملک بنانا چاہتے تھے۔ ایک ایسا ملک جس کا انحصار بیرونی وسائل پر کم ہو اور جدید فوج کو جو آلات درکار ہوں وہ ان کی پیداوار پر وار کر سکیں: اسٹور، جیپ اور کار ، ہتھیار اور اسلحہ کے علاوہ، یونیفارم اور اسٹور، ہوائی جہاز اور پیٹرول ۔ انہوں نے اپریل 1950 میں وزراء اعلیٰ کے اجلاس میں کہا تھا ، ‘‘لاکھوں بے کار ہاتھ مشینوں پر روزگار نہیں ڈھونڈسکتے ہیں’’۔ ہندوستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی بحالی اور بازیابی کے لئے ابتدائی طور پر زراعت کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ سردار پٹیل نے 14 نومبر 1950 میں پنڈت جواہر لعل نہرو کے یوم پیدائش  پراپنے ریڈیو نشریے میں کہا تھا کہ صنعت کے تئیں ان کی عہد بستگی کوئی رکاوٹ، تنگ راستہ یا ریڈ ٹیپ نہیں تھی۔اس نشریہ میں سردار پٹیل نے سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کی وکالت  کی تھی اور کہا تھا ‘ کم خرچ زیادہ بچت اور جہاں تک ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری، ہر شہری کا مقصد ہونا چاہیے’’۔ انہوں نے سماج کے ہر طبقے، وکلاء، کسان، مزدور، تاجر، کاروباری اور سرکاری نوکروں سے اپیل کی تھی کہ ان کے ذریعہ بچایا گیا ہر ‘ آنہ’  اور ان کی یہ بچت اگر وہ حکومت کے ہاتھوں میں دیتے ہیں تو وہ ملک کی تعمیر میں صرف کیا جائے گا۔ انہوں نے اسی خطاب میں  ایک ایک پائی بچانے پر زور دیا تھا اور کہا تھا ہمارے پاس سرمایہ ہونا چاہیے اور یہ سرمایہ صرف ہمارے ملک سے آنا چاہیے۔ ہم شائد

 بین الا قوامی بازاروں اور یہاں وہاں سے قرض لینے کے قابل ہیں، لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہم اپنی معیشت  بیرونی مالی سرمائے کی بنیاد پر نہیں چلا سکتے ہیں۔ ان کی یہ اپیل عوام سے رضا کارانہ طور پر بچت کرنے اور اپنی بچت کو اپنے من پسند کا م میں لگانے کے لئے تھی۔

سردار پٹیل کا طریقہ کار ان کے تئیں متوازن تھا یعنی ‘‘ مداخلت کرنے والا اور لچک دار بھی’’۔عارضی تسکین کیلئے  شورٹ کٹس اور متعلق العنان پالیسیاں یا قیمتوں میں مصنوعی طریقے سے کمی یا سرمایہ کاری کے محرک، ان کو منظور نہیں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوستانی معیشت کی تعمیر یقینی طور پر پیداوار صنعت اور زراعت میں اضافے کی بنیاد پر دولت میں اضافے پر ہونی چاہیے۔

 

*****

پوجا مہرا دہلی میں مقیم ایک صحافی ہیں۔

اس مضمون میں مضمون نگار نے اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 م ن۔ش ت ۔ع ج

(26-10-17)

Uf : 04